اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کشمیریوں کو پناہ دینے والی ہندو صحافی مشکل کا شکار، بدتمیزی اور بدزبانی کا سامنا

datetime 13  مارچ‬‮  2019 |

سری نگر (این این آئی)پلوامہ حملے کے بعد کشمیری نوجوانوں کو پناہ دینے والی ہندو صحافی کی اپنی جان پر بن گئی، انہیں سوشل میڈیا پر بھی بدتمیزی اور بدزبانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق 26 سالہ ساگریکا کسو صحافی ہیں جن کا تعلق جموں کے پنڈت گھرانے سے ہے۔

پلوامہ میں ہوئے حملے کے بعد جب اتراکھنڈ، راجستھان اور ہریانہ میں انتہا پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لیے کشمیری مسلمان نئی دہلی پہنچنا شروع ہوئے تو ساگریکا نے ان کی بھرپور مدد کی تھی۔کشمیریوں کی مدد کرنے پر خاتون صحافی ساگریکا کو بے ہودہ جملے اور تنقید بھی سہنا پڑی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…