بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

رواں سال ہونے والی ریکارڈ توڑ بارشوں سے ڈیموں میں ایک سال تک پانی کے استعمال کا ذخیرہ کرلیاگیا،آئندہ ہفتے کیا ہونیوالا ہے؟محکمہ موسمیات نے بڑی پیش گوئی کردی

datetime 9  مارچ‬‮  2019 |

راولپنڈی (این این آئی)رواں سال معمول سے ریکارڈ توڑ ہونے والی بارشوں سے ڈیموں میں ایک سال کے پانی کے استعمال کا ذخیرہ ہوگیا۔یکم جنوری سے5مارچ تک معمول سے ریکارڈ توڑ ہونے والی بارشوں سے ڈیموں میں ایک سال کے پانی کے استعمال کا ذخیرہ ہوگیا ، خطہ پوٹھوہار اور بارانی علاقوں میں گندم کی فصل پر بھی ریکارڈ مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، جڑواں شہروں راولپنڈی،اسلام آباد کو پانی سپلائی کرنے والے تینوں ڈیم راول ڈیم،سملی ڈیم اور خان پور ڈیم پانی سے بھر گئے ہیں۔

راول ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت1752ایکڑ فٹ ہے زائد پانی جمع ہونے سے ایک ہفتہ میں دوسری بار ڈیم کے سپل وے کھول دئیے گئے اوراضافی پانی نالہ کورنگ اور سواں میں ڈال دیا گیا ، آئندہ ہفتے کے دوران پیر یا منگل کو تیسری بار راول ڈیم کے سپل وے کھولے جانے کا بھی امکان ہے۔خان پور ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت1980ایکڑ فٹ ہے جبکہ اس میں اب تک 1944ایکڑ فٹ پانی جمع ہوگیا، اس کا کیچمنٹ ایریا کم ہونے کے باعث ڈیم بھرنے کی رفتار سست ہے،ڈیڈ سطح پر پانی آنے پر خان پور ڈیم کے سپل وے بھی کھولے جانے کا امکان ہے جبکہ آئندہ ہفتے نئی بارشوں سے خان پور ڈیم میں بھی پانی کی سطح خاصی بلند ہوجائیگی۔دریں اثناء بلوچستان میں مغرب سے بارش برسانے والا نیا سسٹم داخل ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں ہونے والی بارشوں سے ندی نالوں میں ایک مرتبہ پھر طغیانی کا خدشہ ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان میں مغرب سے بارش برسانے والا نیا سسٹم داخل ہوگیا ہے جس کے تحت ہفتے کی رات سے بلوچستان میں اکثر مقامات پر تیز ہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے، بارشوں اور برفباری کا سلسلہ اتوار کی رات تک جاری رہے گا۔چیف میٹرولوجسٹ کراچی عبدالرشید کا کہنا ہے کہ نئے سسٹم کے تحت کوئٹہ میں تیز بارشوں کا امکان ہے لیکن کراچی اور گرد و نواح میں اتوار کو صرف بوندا باندی ہوسکتی ہے۔بلوچستان میں موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی پر پی ڈی ایم اے کی جانب سے خصوصی ہدایت نامہ جاری کردیا گیا ہے جس میں مکران، قلات، کوئٹہ، سبی، رخشان اور ڑوب ڈویڑن میں پی ڈی ایم اے کے اہلکاروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ، عوام کو مطلع کیا گیا ہے کہ وہ سیلابی گزر گاہوں اور نشیبی علاقوں کے قریب رہائش اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…