پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

مولانا سمیع الحق کے قتل کے الزام میں گرفتار شخص کو رہا کردیا گیا،اصل قاتل کون ہے؟ بڑا دعویٰ کردیاگیا

datetime 7  مارچ‬‮  2019 |

راولپنڈی (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (س) کے سابق امیر مولانا سمیع الحق کے قتل کے الزام میں گرفتار ان کے سیکرٹری مولانا سید احمد شاہ کو رہا کردیا گیا ۔مولانا احمد شاہ از خود رضاکارانہ طورپر شامل تفتیش ہوئے تھے اور شروع دن ہی سے مولانا کے صاحبزادگان اور مولانا احمد شاہ پولیس و دیگر تحقیقاتی ٹیموں کیساتھ بھرپور تعاون کررہے تھے،

کئی مواقع پر مولانا سمیع الحق کی فیملی نے کھل کر اس بات کا اظہا ر کیا کہ مولانا کے قتل کیس میں مولانا احمد شاہ بیگناہ ہیں، انہیں پولیس نے شک کی بنیاد پر شامل تفتیش کیا ہے۔ جمعرات کو مولانا سمیع الحق کے قتل کے الزا م میں گرفتار ان کے پرسنل سیکرٹری احمد شاہ کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ زیب شہزاد چیمہ کی عدالت میں پیش کیاگیا ۔پولیس کی ملزم احمد شاہ سے تفتیش سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم احمد شاہ قتل کیس میں ملوث نہیں ہے، اس لئے انہیں مقدمہ سے ڈسچارج کیا جائے ۔عدالت میں مولانا سمیع الحق کے صاحبزادوں کی جانب سے بھی بیان حلفی داخل کرایا گیا جس میں کہا گیا کہ احمد شاہ مولانا سمیع الحق کے قتل میں ملوث نہیں ہے جس پر عدالت نے ان کو بیگناہ قرار دیتے ہوئے مقدمے سے بری کردیا ۔دارالعلوم کے ترجمان نے اس موقع پر کہا کہ شروع دن ہی سے ایف آئی آر میں ہم نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ مولانا سمیع الحق صاحب کے قاتل اسلام اور پاکستان دشمن بیرونی عناصر ہیں،اب بھی ہمارا یہ موقف اورمطالبہ ہے کہ مولانا شہید کے اصل قاتلوں کی گرفتاری کے لئے تمام تفتیشی ادارے اپنی جدوجہد اور کوششیں جاری رکھیں کیونکہ اصل قاتلوں کی عدم گرفتاری ملک و حکومت کے لئے اایک سوالیہ نشان رہے گا اور ہم آخر تک اصل قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ پر قائم ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…