اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

رافیل ڈیل تنازعہ، مودی کے گرد گھیرا تنگ،راہول گاندھی نے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 7  مارچ‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے مطالبہ کیا ہے کہ رافیل طیاروں کے متنازع معاہدے اور دستاویزات کی چوری کی تحقیقات وزیراعظم نریندر مودی سے کی جائے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق راہول گاندھی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ رافیل طیاروں سے متعلق دستاویزات چوری ہوگئیں۔

جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دستاویزات میں جو لکھا تھا وہ درست ہے۔راہول گاندھی نے کہا کہ دستاویزات میں صاف لکھا کہ رافیل طیاروں کی ڈیل کے لیے نریندر مودی اور وزیراعظم آفس براہ راست بات چیت کر رہے تھے اور نریندری مودی نے اپنے دوست انیل امبانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے رافیل ڈیل کا بجٹ بڑھایا۔کانگریس کے صدر کا کہنا تھا کہ اب تو مذاکراتی ٹیم نے بھی کہا ہے کہ نریندر مودی بائی پاس سرجری کر رہے تھے اور رپورٹ کے مطابق مودی نے صاف کہا کہ کنٹریکٹ انیل امبانی کو دیا جائے۔راہول گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا براہ راست نام سامنے آرہا ہے اس کے بارے میں بھی انکوائری کی جائے کہ پیسہ کہاں گیا، سب سچائی سامنے آ جائے گی۔راہول گاندھی نے سوال کیا کہ نریندر مودی خود تحقیقات کیوں نہیں کرا رہے، مودی کہیں کہ وہ ملک کے چوکیدار ہیں اور وہ تحقیقات کرائیں گے۔کانگریس کے صدر نے کہا کہ یہ کرپشن کا کیس ہے تو کرمنل انویسٹی گیشن کیوں نہ کی جائے، تحقیقات سب کے خلاف ہوسکتی ہے تو مودی کے خلاف کیوں نہیں ہوسکتی۔یاد رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ستمبر 2016 میں فرانسیسی حکومت کے ساتھ 36 رافیل طیاروں کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ میں رافیل طیاروں کے معاہدے میں مبینہ بے ضابطگی سے متعلق زیرسماعت کیس میں حکومت نے گزشتہ روز مؤقف اختیار کیا تھا کہ معاہدے کی دستاویزات وزارت دفاع کے دفتر سے چوری ہوچکی ہیں جس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…