بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کا پی آئی اے اور اسٹیل مل سمیت 48 اداروں کی نجکاری کا فیصلہ

datetime 6  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت نے 5 سال میں پی آئی اے اور اسٹیل مل سمیت 48 اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کرلیا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس سید مصطفی محمود کی زیرصدارت ہوا جس میں سیکریٹری نجکاری رضوان ملک نے کمیٹی کو نجکاری پروگرام پربریفنگ دی۔سیکرٹری نجکاری نے کمیٹی کے سامنے پی ٹی آئی حکومت کا نجکاری پروگرام پیش کردیا جس کے تحت حکومت نے 5 سال میں 48 ادارے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سیکرٹری نجکاری نے بتایا کہ ایک سے ڈیڑھ سال میں 7 اداروں کو فروخت کیا جائیگا، ایل این جی کے 2 پاور پلانٹس پہلے مرحلے میں فروخت کیے جائیں گے، حویلی بہادر شاہ اور بلوکی پاور پلانٹس کی بھی نجکاری کی جائے گی۔رضوان ملک نے بریفنگ میں بتایا کہ وومن بینک، ایس ایم ای بینک، جناح کنونشن سینٹر، لاہور انٹرنیشنل ائیرپورٹ، ماڑی اور لاکھڑا کی پہلے مرحلے میں نجکاری کی جائے گی جب کہ دوسرے مرحلے میں 3 سے 5 سال میں 41 اداروں کو فروخت کیا جائیگا۔سیکرٹری نجکاری کمیشن نے کہا کہ پاکستان اسٹیل خریدنے کیلئے 5 سے 6 کمپنیز سے بات چیت چل رہی ہے، ان کمپنیز کا تعلق چین اور روس سے ہے، نئے سرمایہ کار پاکستان اسٹیل کی پیدواوری صلاحیت 11 سے بڑھا کر35 لاکھ ٹن سالانہ تک لانا چاہتے ہیں، پاکستان اسٹیل کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ پر فروخت کیا جائے گا، پاکستان اسٹیل کے بند ہونے سے حکومت کو ماہانہ 40 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔سیکریٹری نجکاری کمیشن کے مطابق (ن) لیگ کی حکومت کے گزشتہ 5 سال میں 5 اداروں کی نجکاری کی گئی، 2013 سے 2018 میں 5 ادارے 173 ارب روپے میں فروخت کیے گئے، پیپلزپارٹی کے2008 سے 2013 کے دورمیں ایک ادارے کی نجکاری کی گئی، مسلم لیگ ق کے 2002 سے 2007 کے دور میں 38اداروں کی نجکاری کی گئی، اس عرصے میں 38 اداروں کی نجکاری 377 ارب روپے میں کی گئی۔رضوان ملک نے بتایا کہ پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل کے نقصانات 600 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، پی آئی اے کے نقصانات پونے 400 ارب روپے تک ہیں جب کہ پاکستان اسٹیل کے نقصانات 200 ارب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں، موجودہ حالات میں پی آئی اے کو کوئی نہیں خریدے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…