اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

خانہ کعبہ کے اوپر سے پرواز کرنا کسی صورت ممکن نہیں آخرایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟حیرت انگیز معلومات

datetime 5  مارچ‬‮  2019 |

ریاض(آن لائن) خانہ کعبہ کے اوپر سے پرواز کرنا کسی صورت ممکن نہیں،خانہ کعبہ زمین کے مرکز میں واقع ہے ، زمین کی کشش ثقل زیادہ ہونے سے تمام اشیا اس کے اطراف میں پھیل جاتی ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جدید سائنس کے تحت کی جانے والی تمام پیمائشوں اور پیمانوں کے مطابق

خانہ کعبہ بلا شک و شبہ زمین کا مرکز ہے۔یہ وہ مقام ہے جو زمین کے بالکل بیچ میں واقع ہے۔زمین کے درمیان کا مقام ہونے کی وجہ سے قدرتی طور پر زمین کی تمام کشش ثقل کا مرکز بھی یہی مقام ہے اور یہی وہ خاصیت ہے جو اسے دوسرے مقامات سے منفرد بناتی ہے۔ زمین کی کشش ثقل کا مرکز ہونے کی وجہ سے یہاں شدید مقناطیسی کشش پائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کسی چیز کا پرواز کرنا نا ممکن ہے۔اگر آپ اپنے ہاتھ میں مقناطیس کا ٹکڑا لیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس کے بالکل درمیان میں کوئی چیز نہیں چپک سکتی، مقناطیسی کشش کے اثر سے وہ شے ہوا میں جھولتی ہوئی مقناطیس کے دائیں یا بائیں طرف چپک جائے گی۔بالکل یہی فارمولہ خانہ کعبہ کے اوپر بھی لاگو ہوتا ہے۔ مرکزی مقام اور مقناطیسی کشش کی شدت ہونے کے سبب یہ نا ممکن ہے کہ کوئی طیارہ حتی کہ پرندہ بھی خانہ کعبہ کے عین اوپر پرواز کرسکے۔ البتہ خانہ کعبہ کے ارد گرد لاتعداد پرندے پرواز کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔یہاں ہم آپ کو ایک اور حیرت انگیز معلومات دیتے چلیں کہ خانہ کعبہ سے جو روشنی نکلتی ہے وہ آسمانوں اور خلا کا سینہ چیر کر بنا کسی رکاوٹ کے سیدھا ساتویں آسمان تک جا پہنچتی ہے جہاں بیت المعمور واقع ہے۔ قرآن کریم کے مطابق بیت المعمور فرشتوں کا خانہ کعبہ ہے اور ہر روز 70 ہزار فرشتے اس کعبے کا طواف کرتے ہیں۔ زمین پر بنایا گیا خانہ کعبہ اسی کعبے کی طرز پر بنایا گیا ہے جس کا حکم خدا نے دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…