اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

بڑھکیں نہ مارو،مقبوضہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ،سابق بھارتی فو جیوں و سیاسی رہنماؤں نے بھی اپنی حکومت کو آئینہ دکھا دیا

datetime 1  مارچ‬‮  2019 |

نئی دہلی(آن لائن) سابق بھارتی فو جیوں و سیاسی رہنماؤں نے بھی اپنی حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔ سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے بھارتی حکومت کو جنگ کی بجائے بنیادی مسائل پر توجہ دینے کا کہہ دیا جبکہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے مطابق کوئی راہِ فرار نہیں، پاکستان سے مذاکرات کیے جائیں۔بھارت کے سابق افسروں نے بھارتیوں کو بڑھکیں مارنے سے منع کر دیا۔

سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے پاک بھارت کشیدگی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ خود کو تباہی میں نہ جھونکیں۔ دونوں ملک غربت، صحت جیسے مسائل پر توجہ دی جبکہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے کہا کہ پاکستان سے ہر حال میں مذاکرات ہی کرنے ہوں گے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ عمران خان حقیقت پسند اور سمجھدار شخص ہیں۔انہوں نے تسلیم کیا کہ مقبوضہ کشمیر طویل عرصے سے بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ سابق را چیف کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملہ انٹیلی جنس کی ناکامی تھا۔ دوسری جانب بھارتی فضائیہ کے سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا میں ہر طرف بڑھکوں کا طوفان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہماری آوازیں ضرورت سے زیادہ اونچی اور لہجے کرخت ہیں۔سابق را چیف نے بھارتی عوام کو نصیحت کی کہ مبالغہ آمیز گفتگو اور جملوں سے پرہیز کریں۔اسی طرح بھارتی مصنفہ نے کہا ہے کہ بھارتی فضائیہ کی تعیناتی کے بعد بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ کشمیر مکمل طور پر بین الاقوامی سطح کا معاملہ ہے۔امریکی جریدے کی ویب سائٹ کے لیے لکھے گئے اپنے ایک بلاگ میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر کیے گئے غیر منطقی فضائی حملے کے بعد مودی نے نادانستہ طور پر اپنا گزشتہ موقف واپس لیا ہے بلکہ اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ کشمیر ایک بین الاقوامی معاملہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…