اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے آخری گڑھ سے شہریوں کا انخلا شروع

datetime 21  فروری‬‮  2019 |

دمشق(این این آئی)شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ(داعش) کے زیر قبضہ آخری علاقے سے بسوں کے ذریعے لوگوں کا انخلا شروع ہو گیا ہے۔ سرحد پر موجود صحافیوں نے عراقی سرحد کے قریب باغز کے گاؤں سے کم از کم دس گاڑیوں کو لوگوں کو نکالتے دیکھا ہے۔امریکی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) اتحاد کے ترجمان، جس کے جنگجوؤں نے علاقے کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔

کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کو علاقے سے نکال رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے باغز میں مبینہ طور پر پھنسے 200 سے زائد خاندانوں کی قسمت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔انسانی حقوق کی سربراہ مشیل بائچلیٹ نے کہا کہ ان افراد کو بظاہر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے نکلنے سے دانستہ طور پر روکا جا رہا ہے اور ان افراد کو شامی جنگجوؤں اور امریکی اتحادی افواج کی طرف کی جانے والی شدید بمباری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انھوں نے جنگی فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ جو افراد وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں ان کو محفوظ راستہ دیا جائے اور جو وہاں رکنا چاہتے ہیں ان کو بھی جہاں تک ممکن ہو سکے تحفظ فراہم کیا جائے۔بائچلیٹ کے بیان کے گھنٹوں بعد عسکریت پسندوں کی بیویوں اور بچوں کو نکالنے کے ایک معاہدے کی غیر مصدقہ اطلاعات کے پیش نظر تقریباً 50 بسوں کا قافلہ باغز کے مضافات میں پہنچا ہے۔ تاہم روئٹرز خبر رساں ادارے کے مطابق کوئی بھی بس شام تک وہاں سے نہیں نکلی تھی۔پانچ سال قبل، شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ(داعش) مغربی شام سے لے کر مشرقی عراق تک 88000 مربع کلومیٹر کے وسیع علاقے پر قابض تھی۔ جہاں اس نے تقریباً 80 لاکھ افراد پر بہیمانہ طریقے سے حکمرانی کرنے کے ساتھ ساتھ تیل کے ذخائر، بھتہ خوری، راہزنی اور اغوا برائے تاوان سے اربوں ڈالر کمائے تھے۔ اب ایک اندازے کے مطابق آدھے کلومیٹر مربع کے علاقے میں 300 شدت پسند موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…