جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

بچے ہوئے چاول کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہیں یا فائدہ مند؟ طبی ماہرین نے بتا دیا

datetime 18  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اکثر اوقات ہمارے گھروں میں استعمال کے بعد بچے ہوئے کھانے کو فریج میں محفوظ کردیا جاتا ہے اور اگلے دن استعمال کیا جاتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے ہوئے چاول کھانا خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے ہوئے چاول کھانا فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاولوں کو دوبارہ گرم کرنا خطرناک نہیں۔

بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ پکانے کے بعد چاولوں کو کیسے محفوظ کیا گیا۔ پکنے کے بعد چاول جتنا زیادہ معمول کے درجہ حرارت پر رہیں گے اتنا ہی زیادہ ان میں صحت کے لیے خطرناک ہونے کا امکان بڑھ جائے گا۔ ماہرین کے مطابق کچے چاولوں میں فوڈ پوائزننگ پیدا کرنے والے بیکٹریا موجود ہوتے ہیں اور قوی امکان ہوتا ہے کہ پکنے کے بعد بھی یہ کسی حد تک موجود رہیں۔ ایسے میں روم ٹمپریچر پر رکھنا ان بیکٹریا کی افزائش میں دوگنا اضافہ کردیتا ہے۔ چاولوں سے ہونے والی فوڈ پوائزننگ کھانے کے ایک سے 5 گھنٹے بعد ڈائریا اور قے کی صورت میں ظاہر ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ زیادہ خطرناک نہیں ہوتی اور 24 گھنٹے تک ہی رہتی ہے۔ ماہرین چاولوں کی فوڈ پوائزننگ سے بچنے کے لیے کچھ تجاویز دیتے ہیں۔ کوشش کریں کہ چاولوں کو پکنے کے بعد ایک ہی دفعہ میں سرو کردیں۔ اگر چاول بچ جائیں اور انہیں محفوظ کرنا ہو تو ایک دن سے زیادہ محفوظ نہ کریں۔ فریج سے نکلے ہوئے چاولوں کو اچھی طرح گرم کریں۔ ایک بار فریج سے چاول نکال لینے کے بعد ایک ہی بار گرم کریں اور کوشش کر کے ختم کردیں۔ بار بار فریج میں رکھنا یا گرم کرنا انہیں خطرناک بنا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…