جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

فیس بک پر اپنی کشش بر قرار رکھنی ہے تو کم دوست بنائیں

datetime 24  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) فیس بک جس قدر تیزی سے ہر عمر کے افراد کی زندگی کا اہم حصہ بن رہی ہے، اسی قدر تیزی سے سماجی رابطے کے اس اہم ذریعے کے بارے میں تحقیقات بھی جاری ہیں۔ تازہ ترین تحقیق میں ماہرین نے فیس بک کے براہ راست تعلقات کی نوعیت پر اثرات کا جائزہ لیا ہے اور یہ دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ وہ افراد جو کہ فیس بک پر دوسروں کیلئے کشش رکھتے ہیں، اس وقت اپنی کشش کھونے لگتے ہیں جب ان کے دوستوں کی تعداد تین سو سے زیادہ ہوجائے۔ ماہرین کا کہناہے کہ فیس بک استعمال کرنے والا کوئی ایک فرد جب دوسروں کو باعث کشش محسوس ہوتا ہے تو اس کے دوستوں کی فرہست میں موجود افراد بھی خود بخود پرکشش دکھائی دینے لگتے ہیں۔ کسی بھی فیس بک یوزر کی یہ کشش اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک کہ اس کے دوستوں کی تعداد تین سو نہیں ہوجاتی۔ حیرت انگیز طور پر تین سو کی حد پار کرتے ہی یہ کشش خود بخود ختم ہونے لگتی ہے۔ علاوہ ازیں فیس بک پر زیادہ وقت گزارنے والے افراد کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ بیرونی دنیا میں زیادہ وقت گزارنے کے بجائے اپنی دنیا میں زیادہ وقت گزارنا پسند کرتے ہیں۔ ایسے افراد عام بات چیت اور میل جول کی نسبت سوشل میڈیا پر اپنی ذات کے بارے میں معلوما ت و افکار کا زیادہ اظہار کرتے ہیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر فوری جواب کیلئے ان پر کوئی دباو¿ نہیں ہوتا ہے، اس کے علاوہ ایسے لوگ عام زندگی میں اجنبیوں سے بات چیت کرتے ہوئے دباو¿ محسوس کرتے ہیں۔ وہ افراد جنہیں اپنی ذات پر اعتماد کم ہو، وہ بھی عام میل جول کے بجائے فیس بک کی دنیا کو وسیع کرنے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ایسی ہی ایک اور تحقیق میں ماہرین نے یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا ہے کہ فیس بک پر زیادہ وقت گزارنے والے افراد نرگسیت کا شکار ہوتے ہیں۔ فیس بک ، ٹوئٹرپر اپنی ذاتی تصاویر اور معلومات کو مسلسل شیئر کرنا یہ ظاہرکرتا ہے کہ کچھ لوگوں کی سوچ کا محور ان کی ذات ہی ہوتی ہے اور وہ گھلنے ملنے کے ہر پلیٹ فارم کو اسی تسکین کیلئے استعمال کرتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…