اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں ویسٹ نائل وائرس کی موجودگی کا انکشاف

datetime 7  فروری‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)پاکستان میں پہلی مرتبہ ویسٹ نائل وائرس(ڈبلیواین وی) کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کی موجودگی کے بعد ماہرین نے فوری طور پر اس پر مزید تحقیق اور توجہ کا مشورہ دیا ہے۔ ایک مچھر سے پھیلنے والا یہ وائرس کئی طرح کے دماغی و اعصابی امراض کی وجہ بنتے ہوئے مریض کی جان بھی لے سکتا ہے۔مچھروں سے پھیلنے والے وائرس سے متاثر ہونے کے بعد 20 فیصد

واقعات میں بخار، دردِ سر اور قے آتی ہے تاہم ایک فیصد سے کم واقعات میں دماغ متاثر ہوتا ہے اور مریض ہلاک بھی ہوسکتا ہے۔ ویسٹ نائل وائرس سے دماغی سوزش (اینسیفلائٹس)، دماغی بافتوں کی سوجن اور گردن توڑ بخار بھی ہوسکتا ہے۔یہ تحقیق گزشتہ ماہ انٹرنیشنل جرنل آف انفیکشئس ڈیزیز میں شائع ہوئی ہے۔ صوبہ پنجاب میں 2016 سے 2018 تک خون کا عطیہ دینے والے 1,070 افراد کے خون کے نمونوں کی آزمائش کی گئی۔ لیکن نب ڈاکٹروں نے 2016 سے 2017 تک 4500 مچھروں کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ ویسٹ نائل وائرس ایک مختلف انداز سے زیرِ گردش ہے۔اس پر تحقیق کرنے والے سینیئر ماہر محمد ثاقب فیصل آباد یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مصنف ہونے کی بنا پر انہوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر یہ وائرس مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے لیکن پاکستان میں یہ خون کی منتقلی سے پھیل رہا ہے جو ایک بہت سنجیدہ مظہر ہے۔ڈاکٹر محمد ثاقب اور اس پر تحقیق کرنے والے چینی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستانی عوام اس وائرس کی زد میں ہیں اور فوری طورپر نگرانی، اسکریننگ اور رپورٹنگ و علاج کی سہولیات فراہم نہ کرنے سے معاملہ مزید گھمبیر ہوسکتا ہے۔1990 کے بعد سے اب تک ویسٹ نائل وائرس کے ایسی وبائیں تیزی سے پھوٹی ہیں جو دماغی امراض کی وجہ بنیں اور اس طرح عوام کے لیے خطرہ ثابت ہوتی رہی ہیں۔ تاہم جینیاتی تجزیوں سے اس کی کئی اقسام یا لینیج

سامنے آئی ہیں۔ ان میں خاص طور پر 1999 میں نیویارک میں سامنے آنے والی لینیج ون مشہور ہے جو دماغی امراض کی وجہ بن سکتی ہے۔اسی لحاظ سے پاکستان میں پایا جانے والا وائرس بھی ڈبلیو این وی کی لینیج ون سے تعلق رکھتا ہے۔ وائرس کی یہ قسم بھارت، روس، آسٹریلیا اور دیگر مقامات پر وبا کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ اس ضمن میں آغا خان یونیورسٹی میں خردحیاتیات کی ماہر اِرم خان نے بتایا کہ پاکستان میں مچھروں سے فروغ پانے والے امراض کی شدت، کیفیت اور پھیلا کو اب

تک سمجھا ہی نہیں گیا ۔ اس کی وجہ نگرانی اور رپورٹنگ کے باقاعدہ نظام کا نہ ہونا بھی ہے۔ارم خان نے بتایا کہ اس ضمن میں ان کا ادارہ یونیورسٹی آف فلوریڈا میں نئے جراثیم اور وبائیات کے مرکز سے رابطے میں ہے اور پورے ملک میں ویسٹ نائل وائرس کی نشاندہی، رپورٹنگ اور نگرانی کا ایک باقاعدہ نظام بنایا جارہا ہے۔ اگلے مرحلے میں ان کی روشنی میں حکومت کو سفارشات بھی بھیجی جائیں گی۔یہ رپورٹ سائنس فار ڈویلپمنٹ نیٹ ورک میں شائع ہوئی ہے جس کے مصنف سلیم شیخ ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…