پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

طالبان کی پوزیشن مضبوط،افغان حکومت کا ملک پر کنٹرول مزید کم ہوگیا،امریکہ کا اعتراف، خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 1  فروری‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل افغانستان ریکنسٹرکشن (ایس آئی جی آر) نے کہاہے کہ سال 2018 میں جہاں افغانستان میں عسکریت پسندوں کی پوزیشن مضبوط ہوئی وہیں افغان حکومت کے ملک پر کنٹرول میں مزید کمی آئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل افغانستان ریکنسٹرکشن (ایس آئی جی آر) کی کانگریس کے لیے تیار کردہ رپورٹ میں کہاگیاکہ امریکی صدر کی گزشتہ برس پیش کردہ جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کے نفاذ سے جنگ زدہ خطے میں استحکام آنے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 2018 کے آخری سہ ماہی میں افغانستان میں موجود امریکی سول اور فوجی حکام سے موصول ہونے والے ضلعی سطح کے اعداد و شمار میں ساؤتھ ایشیا کی نئی حکمتِ عملی کا کوئی فائدہ دیکھنے میں نہیں آیا۔افغانستان میں موجود ایک مشن کی مئی 2018 میں بھیجی گئی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایس آئی جی آر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ امریکا تنہا افغانستان کے حالات کو بہتر بنا کر تعمیر نو اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک اسے ملک کے اندر سے حمایت حاصل نہ ہو۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ استحکام کے لیے بنائی گئی حکمتِ عملی اور پروگرام افغانستان کے حالات سے مکمل مطابقت نہیں رکھتا اور افغان اضلاع کو مستحکم کرنے میں کامیابیوں شاذ و نادر ہی اتحادی فوجیوں اور شہریوں کی موجودگی میں زیادہ وقت تک جاری رہیں۔امریکی کانگریس کے دیے گئے اختیار پر مرتب کردہ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغان حکومت کا ملک پر کنٹرول اور اثر و نفوز بتدریج کم ہورہا ہے اور جولائی 2018 کے بعد سے عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں اضافہ ہوا ہے۔اس سلسلے میں افغان حکومت کے زیر انتظام ضلعی آبادی پر کنٹرول میں مئی 2017 سے جولائی 2018 میں تبدیلی دیکھی گئی اور یہ 65 فیصد سے کم ہو کر 63.5 فیصد ہوگئی۔2018 کے آخری سہہ ماہی میں اس میں 5 لاکھ افراد یعنی 1.7 کی فیصد کی مزید کمی دیکھنے میں آئی، ایک اندازے کے مطابق 63.5 فیصد یعنی کل 3 کروڑ 33 لاکھ میں سے 2 کروڑ 12 لاکھ افغان شہری ان علاقوں میں رہتے ہیں جہاں افغان حکومت کا اثرو رسوخ ہے۔

دوسری جانب عسکریت پسندوں کے زیر انتظام علاقوں میں 85 لاکھ لوگ رہائش پذیر ہیں جو آبادی کا تقریباً 25.6 فیصد حصہ ہے، اس میں 2017 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 2 فیصد کیا اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق 22 اکتوبر 2018 تک افغان حکومت کے کنٹرول میں 74 اضلاع تھے اور کل 145 پر اس کا اثر و نفوذ ہے جو اضلاع کی کل تعداد کا 53.8 فیصد ہے۔ان اعداد و شمار کے مطابق 2017 کے آخری سہہ ماہی کے مقابلے میں 7 اضلاع حکومتی کنٹرول یا اثرو رسوخ سے باہر ہوگئے ہیں۔اب افغانستان کے 12.3 فیصد اضلاع عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں ہیں اور ایسے اضلاع جہاں نہ افغان حکومت کا کنٹرول ہے اور نہ ہی عسکریت پسندوں کا زور، ان کی تعداد مزید 6 اضلاع کے اضافے کے ساتھ 138 ہوگئی ہے جو کل تعداد کا 33.9 فیصد ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…