پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

خلیل کے بچوں کے ہسپتال سے گھر پہنچنے پر ایک مرتبہ پھر کہرام مچ گیا ،اہل خانہ اور رشتہ دار بچوں کوگلے لگاکر روتے رہے 

datetime 21  جنوری‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی) ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے خلیل کے بچوں کے ہسپتال سے گھر پہنچنے پر ایک مرتبہ پھر کہرام مچ گیا اور اہل خانہ اور رشتہ دار بچوں کوگلے لگاکر روتے رہے ، خلیل اور ذیشا ن کے گھروں پر دوسرے روز بھی تعزیت کیلئے آنے والوں کا تانتا بندھا رہا ۔ تفصیلات کے مطابق ہفتہ کے روز ساہیوال میں سی ٹی کی جانب سے مبینہ مقابلے میں ہلاک ہونے والے خلیل کا بیٹا عمیر اور بیٹی منیبہ زخمی ہو گئے تھے جنہیں پہلے ساہیوال کے مقامی ہسپتال میں طبی امداد دی گئی اور اس کے بعد وزیر اعلیٰ کے

حکم پر اتوار کے روز صبح پانچ بجے جنرل ہسپتال لاہور منتقل کر دیا گیااور دونوں ہسپتال میں زیر علاج تھے ۔گزشتہ روز عمیر اور منیبہ کو ہسپتال سے ڈسچارج کر کے گھر منتقل کر دیا گیا تاہم دونوں کے گھر پہنچنے پر گھر میں ایک مرتبہ پھر کہرام مچ گیا اور اہل خانہ اور رشتہ دار بچوں کو گلے لگا کر روتے رہے ۔ علاوہ ازیں خلیل اور ذیشان کے گھروں پر تعزیت کے لئے آنے والوں کا تانتا بندھا رہا جس سے فضاء سوگوار رہی ۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے بھی اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…