اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

اتحادی اور افغان فوجی ناکام ہوگئے ،طالبان کی شمالی افغانستان میں پیش قدمی،تیل کے کنوؤں پر قبضے کا خدشہ، حکومت پریشان،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 21  جنوری‬‮  2019 |

کابل(این این آئی)طالبان افغانستان کے شمال میں واقع صوبائی دارالحکومت سرپل کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں، طالبان تیل کے کنوؤں پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں جبکہ طالبان اس شہر کے مضافات میں واقع علاقوں کو پہلے ہی اپنی گرفت میں لے چکے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان عسکریت پسندوں نے سرپل پر قبضے کے لیے اپنی کارروائیاں تیز تر کر دی ہیں جبکہ وہ اس علاقے میں موجود تیل کے کنوؤں پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان اس طرح امریکی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط تر بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔سرپل کے گورنر کے ایک ترجمان ذبیح اللہ امینی کا نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھاکہ سرپل کی صورت حال ویسے ہی نازک ہے لیکن اب طالبان نے قریبی علاقوں پر بھی حملے شروع کر دئیے ہیں۔ امینی کا مزید کہنا تھاکہ کئی خاندان سرپل کے شہر کے مرکز میں موجود ہیں اور ان کی حالت بہت ہی خراب اور خستہ ہے کیوں کہ ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے سامان نہ ہونے کے برابر ہے۔حالیہ کچھ عرصے میں طالبان کے اعتماد میں واضح اضافہ ہوا ہے اور شہروں کے مضافاتی دیہی علاقوں میں ان کا کنٹرول بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حکومتی فورسز کے حوصلے پست ہوتے جا رہے ہیں اور وہ شکستہ دلی کے ساتھ طالبان کو پیچھے دھکیلنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔دریں اثناء طالبان عسکریت پسندوں کے حملوں کے باعث درجنوں خاندان بھی بے گھر ہو گئے ۔ ایسے ہی تقریبا چالیس خاندان کوہستان سے سرپل پہنچے ہیں۔ یہ ضلع طالبان کے زیر قبضہ ہے اور بھاگ کر آنے والے یہ خاندان سخت سردی میں سرپل کی مساجد میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ سخت سردی کی وجہ سے داخلی سطح پر ہجرت کرنے والے ایسے مہاجرین کی زندگی مزید مشکلات شکار ہو رہی ہے اور حکومتی امداد نہ ہونے کے برابر ہے،ان بے گھر ہونے والے افراد کے مطابق طالبان ان خاندانوں کو علاقہ بدر کر رہے ہیں، جن کے بارے میں انہیں شک ہے کہ یہ حکومت کے لیے نرم جذبات رکھتے ہیں یا پھر جن کے خاندانوں کے مرد حکومتی فورسز کے لیے کام کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…