پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

ساہیوال واقعہ کے خلاف احتجاج میں شدت آگئی،مقتولین کے اہل خانہ کوتقریباً30 سال سے جانتے ہیں یہ لوگ ۔۔۔ اہل محلہ سب سامنے لے آئے

datetime 19  جنوری‬‮  2019 |

لاہور ( این این آئی)ساہیوال میں انسداد دہشتگردی فورس کے ساتھ مبینہ مقابلے میں مارے جانے والے افراد کے لواحقین اور اہل علاقہ نے فیروز پور روڈ پر ٹائر جلا کر احتجاج کیا جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا ، مظاہرین کی جانب سے میٹرو بس سروس کے روٹ کو بھی بند کر دیا گیا ،مقامی رکن اسمبلی رمضان صدیق بھٹی اور پولیس افسران کی جانب سے انصاف کی یقین دہانی پر مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا ۔

تفصیلات کے مطابق ساہیوال میں انسداد دہشتگردی فورس کے ساتھ مبینہ مقابلے میں مارے جانے والے افراد کے لواحقین نے فیروز پور روڈ کو ٹائر جلاکر بلاک کردیا جس کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا او گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں ۔احتجاج کی وجہ سے لاہور سے قصور اور قصور سے لاہور آنے والی ٹریفک مکمل طور پر بلاک اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ بعد ازاں مظاہرین میٹرو بس سروس ٹریک کے روٹ میں بھی داخل ہو گئے جس سے میٹرو بس سروس معطل ہو گئی ۔پولیس کی جانب سے مظاہرین سے متعدد بار مذاکرات کئے گئے جو ناکام رہے ۔ بعد ازاں مقامی رکن اسمبلی رمضان صدیق بھٹی کی قیادت میں پولیس افسران نے مظاہرین سے مذاکرات کئے اور انہیں انصاف کی یقین دہانی کرائی جس پر مظاہرین نے سڑک کو ٹریفک کے لئے کھول دیا ۔مظاہرین کو یقین دہانی کرائی گئی کہ چاروں لاشیں اہل خانہ کے حوالے کی جائیں گی ،ایس ایچ کوٹ لکھپت اہل خانہ کے ہمراہ ساہیوال جائیں گے ۔مبینہ مقابلے میں جاں بحق ہونے والے ذیشان اور خلیل کے عزیز واقارب اور محلے داروں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کا کسی دہشتگرد تنظیم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا ۔شادی کی تقریب میں شرکت کرنے کے لئے بوریوالا جا رہے تھے کہ ساہیوال ٹول پلازہ پر سکیورٹی اہلکاروں نے گولیوں سے بھون ڈالا ۔ساہیوال واقعے میں سی ٹی ڈی پولیس کی فائرنگ سے مارے جانے والے افراد کے محلے داروں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ مقتولین کے اہل خانہ کوتقریباً30 سال سے جانتے ہیں، یہ لوگ نمازی پرہیزگار تھے، والد کا انتقال ہو چکا ہے جبکہ والدہ بیمار تھیں۔محلے داروں کے مطابق ذیشان کاایک بھائی احتشام ڈولفن پولیس کااہلکارہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…