پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد میں سوائن فلو کا پہلا مریض جان کی بازی ہار گیا، ہسپتال انتظامیہ کا لاکھوں کا مطالبہ اور لاش دینے سے انکار

datetime 17  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سوائن فلو کا پہلا مریض پمز ای ڈی کی غفلت سے زندگی کی بازی ہارگیا، ای ڈی پمز راجہ امجد نے متاثرہ نوجوان کو پمز ہسپتال نے داخلہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق فہد شاہ کو طبیعت کی خرابی پر پمز ہسپتال میں لایا گیا جہاں پر مرض کی تشخیص ہونے پر ہسپتال انتظامیہ نے فہد شاہ کو ہسپتال میں داخل کرنے سے انکار کر دیا، پمز میں داخلہ نہ ہونے کی وجہ سے فہد شاہ کو ایک نجی ہسپتال میں لے جایاگیا لیکن وہاں پر وہ زندگی کی بازی ہار گیا،

واضح رہے کہ فہد شاہ کو 8 جنوری کو پمز ہسپتال لایا گیا تھا جہاں پر مریض کو رکھنے سے انکار کردیا گیا تھا، لواحقین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بے حسی پر پمز انتظامیہ کے خلاف نوٹس لیں، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر امجد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، فہد شاہ کی موت کے بعد پرائیویٹ ہسپتال والوں نے لواحقین کو لاکھوں کا بل تھما دیا اور بل نہ دینے کی وجہ سے لاش دینے سے انکار کر دیا، نجی ہسپتال میں فہد شاہ کو آٹھ روز تک زیر علاج رکھا گیا، اس دوران تین لاکھ اکتیس ہزار چار سو کا بل بنا، اس بل کی ادائیگی غریب خاندان کے بس میں نہیں تھی، لواحقین نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ میت کے کفن دفن کے لیے کچھ نہیں ہے تو ہم بل کہاں سے دیں، حکومت پمز ہسپتال کی بے حسی کا نوٹس لے کر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں سوائن فلو کی خطرناک و با ء پھر تیزی سے پھیلنے لگی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دو ہلاکتوں کے بعد ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 6 ہو گئی خطرناک مہلک وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی انجکشن اور ادویات کی بھی کمی واقع ہوگئی تفصیلات کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں میں ملتان ‘ لاہور کے بعد مہلک وائرس سے اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال اورمعروف انٹرنیشنل ہسپتال میں سول ایوسی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر اظہر اقبال بھی انتقال کرگئے جبکہ ان کی اہلیہ بھی سوائن فلو کے وائرس سے متاثر ہسپتال میں زیر علاج ہیں اس مہلک وائرس کی روک تھام کیلئے فوری اقدامات حکومتی سطح پر عمل میں لانا ضروری امر ہوگئے ہیں

ملک کے دیگر شہروں میں بھی موسم سرما کی وجہ سے یہ وائرس پھیل رہا ہے جس کی وجہ سے عوام الناس بھی انتہائی تشویش پائی جارہی ہے ذرائع کے مطابق ملک کے کئی شہیدوں سے اس مرض میں مبتلا مریض کراچی اور اسلام آباد کے بڑے ہسپتالوں میں بھیج رہے ہیں بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سرکاری ہسپتالوں سمیت کسی پرائیویٹ ہسپتال میں بھی اس موذی وائرس کی انتہاہی نگہداشت کا کوئی خصوصی یونٹ موجود نہیں ہے لہٰذا صوبائی حکومت اس اہم خطرناک وائرس سے بچاؤ کے لئے ہنگامی بنیادوں پر فوری اقدامات عمل میں لائے واضح رہے کہ اس سے قبل کانگو وائرس پھیلنے سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر مسلمانوں میں بھی ہلاکتیں ہوئی تھیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…