پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

سرد موسم میں بجلی نہ بنانے کے باوجود بجلی گھروں کو خطیر رقوم کی ادائیگی کیوں کی جاتی ہے؟وزیر توانائی عمر ایوب کا سپریم کورٹ میں حیرت انگیز انکشاف

datetime 14  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئی پی پیز معاہدوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ پیر کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں آئی پی پیز کو اضافی ادائیگیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں وزیر توانائی عمر ایوب عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عمر ایوب صاحب ادائیگیوں کا معاملہ دیکھا ہے، آئی پی پیز کے ساتھ کس طرح سے معاہدے ہوئے، یکطرفہ معاہدے آئی پی پیز کے ساتھ ہوئے، غریب لوگوں سے پیسے اکٹھا کر کے ان کو دئیے ہیں، بجلی پیدا کریں یا نہ کریں ادائیگیاں ہونی ہیں۔وزیر توانائی عمر ایوب نے عدالت کو بتایا کہ ادائیگی کے لیے ساورن گارنٹی دی گئی، کیپسٹی اور انرجی ادائیگیاں ہوئی ہیں، بجلی گھروں سے سرکار بجلی خریدتی ہے، گرمیوں میں تمام بجلی گھروں کو چلانا پڑتا ہے، سردیوں میں بجلی کی طلب کم ہو جاتی ہے، معاہدے کے تحت سرکار پہلے سستی بجلی خریدتی ہے، سرد موسم میں جن بجلی گھروں سے بجلی نہیں لیتے انہیں کیپسٹی پیمنٹ کرتے ہیں۔چیف جسٹس سے استفسار کیا کہ کیپسٹی پیمنٹ میں سرکار نے کتنا پیسہ ادا کیا، جس پر عمر ایوب نے کہا کہ نجی تھرمل بجلی گھروں سے 46 فیصد بجلی حاصل ہوتی ہے، ہائیڈل بجلی کی صلاحیت سردیوں میں کم ہو جاتی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ آئی پی پیز معاہدوں سے متعلق مفصل رپورٹ دی جائے، عدالت نے کہا کہ کیا آئی پی پیز کے معاہدے ملکی مفاد اور قانونی ہیں آئی پی پیز سے کتنی بجلی پیدا ہو تی ہے، عدالت نے آئی پی پیز معاہدوں سے متعلق مفصل رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔ عدالت نے آئی پی پیز سے متعلق عدالتی ایوارڈز کی تفصیل بھی فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…