ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف مقدمہ درج لیکن کیوں؟امریکی حکومت ہل کررہ گئی

datetime 12  جنوری‬‮  2019 |

واشنگٹن( آن لائن ) امریکی ائیر ٹریفک کنٹرول ایسوسی ایشن نے ملکی تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤن کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر حکام کیخلاف مقدمہ درج کرا دیا ہے۔امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر مقدمے میں موقف اپنایا گیا ہے کہ شٹ ڈاؤن کے سبب تنخواہیں نہیں دی جارہیں اور تنخواہ کے بغیرکوئی ملازم کام کرنے کو تیارنہیں جب کہ کمپنی کے ملازمین کا کہنا ہے کہ مطلوبہ معاوضے دیے بغیر سخت محنت کروائی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ میں جاری جزوی شٹ ڈاؤن 22 ویں روز میں داخل ہو گیا ہے اور آٹھ لاکھ سے زائد لوگوں کو تنخواہیں نہیں مل سکی ہیں۔ شٹ ڈاؤن کے سبب لاکھوں افراد کو جزوی طور پر گھر بھیج دیا گیا ہے اور ہزاروں افراد بلامعاوضہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔امریکی صدر کی جانب سے میکسیکو کے ساتھ سرحدی دیوار کی تعمیر کیلئے رقم پر باربار اصرار کیا جارہا ہے اور انہوں نے کہہ رکھا ہے کہ رقوم کی منظوری نہ ہونے تک وہ شٹ ڈاؤن کو مہینوں بلکہ سالوں تک بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے امریکہ میں چاہتا ہوں کانگریس اپنا کام کرے، شٹ ڈاؤن ختم کرنے میں کانگریس کی ناکامی کی صورت ایمرجنسی لگاؤں گا اور میرے پاس ایمرجنسی لگانے کا پورا حق ہے۔امریکہ میں جاری حالیہ شٹ ڈاؤن امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن ہے۔ قبل ازیں 1996 میں بل کلنٹن کے دور صدارات میں 21 روز کا شٹ ڈاؤن ہوا تھا۔جمی کارٹر کے دور صدارت میں کاروبار حکومت 17 روز بند رہا، یہ امریکی تاریخ کا تیسرا بڑا شٹ ڈاؤن شمار ہوتا ہے۔ 2013 میں باراک اوبامہ انتظامیہ کو بھی 16 روز کے لیے شٹ ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا، یہ امریکہ کا چوتھا طویل شٹ ڈاؤن تھا۔ جمی کارٹر کو پہلے شٹ ڈاؤن کا سامنا 1977 میں کرنا پڑا ، جب 12 روز کاروبارِ حکومت بند رہا۔ یہ امریکی تاریخ کا پانچواں طویل ترین شٹ ڈاؤن تھا۔ 1974 میں نئے بجٹ قوانین کی منظوری کے بعد درجنوں وفاقی اداروں کی فنڈنگ کا اختیار کانگریس کو حاصل ہوا۔

وفاقی اداروں کی فنڈنگ کا بل منظور نہ ہونے سے ملازمین کی تنخواہیں بند ہو جاتی ہیں، جس سے یا تو ملازمین چھٹی پر چلے جاتے ہیں یا ان کو بغیر تنخواہ کام کرنا پڑتا ہے۔ فنڈ نگ نہ ہونے کی صورت میں ملازمین کی تنخواہیں ادا نہیں ہو پاتی کاروبار حکومت بند ہو جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…