ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

میکسیکوسرحدی دیوار کی تعمیر پر ڈیموکریٹس کی ناں، ٹرمپ چراغ پا ہو گئے

datetime 10  جنوری‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی صدر اور چوٹی کے ڈیموکریٹ قانون سازوں کے درمیان وائٹ باوس میں اجلاس جاری تھا جب ڈونالڈ ٹرمپ اچانک باہر چلے گئے۔امریکی ٹی وی کے مطابق یہ ناخوشگوار صورتحال اس وقت سامنے آئی جب ڈیموکریٹس نے ایک بار پھر امریکا میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے رقوم مختص کرنے کا مطالبہ ماننے سے انکار کیا۔ دیوار کی تعمیر کا مقصد

غیر قانونی تارکین وطن کو ملک میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔ایک ٹویٹر پیغام میں ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی اور سینیٹ میں ڈیموکریٹ قائد، چَک شومر کے ساتھ اپنی مختصر بات چیت کو ٹرمپ نے وقت کا ضیاع قرار دیا۔صدر نے کہا کہ اْنھوں نے پوچھا اگر وہ 19 روزہ جزوی حکومتی بندش کو ختم کرنے پر اتفاق کریں تو وہ سرحد پر دیوار کی تعمیر یا اسٹیل کی رکاوٹ کی منظوری دیں گے اگر اگلے 30 دِنوں کے دوران سرحدی سکیورٹی پر مذاکرات کیے جاتے ہیں۔ لیکن جب نینسی نے کہا کہ نہیں، میں نے کہا خدا حافظ۔ کوئی راستہ باقی نہیں بچا!۔جب ٹرمپ نے ناکام ملاقات کے بارے میں ابھی ٹویٹ نہیں بھیجا تھا، وائٹ ہاؤس کے باہر شومر نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ایک بار پھر ہم نے غصے کا اظہار‘‘ دیکھا۔ اْنھوں نے کہا کہ ’’وہ باہر نکل گئے اور کہا کہ ہمیں کوئی بات نہیں کرنی۔پلوسی نے کہا کہ ہمارے ذہن میں سرحد کی حفاظت کا اس سے بہتر منصوبہ ہے۔ لیکن، اس کا تعلق دیوار تعمیر کرنے سے نہیں ہے۔ڈیموکریٹس کا کہناتھا کہ تارکین وطن کو سرحد عبور کرنے سے روکنے کے لیے جدید ترین نگرانی کے نظام کو نافذ کیا جائے، جو زیادہ تر وسط امریکی ملکوں سے غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہوتے ہیں۔نائب صدر مائیک پینس نے جو اس ملاقات کے دوران موجود تھے کہا کہ ہم نے ایک بار پھر ڈیموکریٹس کو سنا جو بات چیت پر رضامند نہیں ہیں۔ صدر اپنے مؤقف پر سختی سے قائم ہیں۔

تاکہ جنوبی سرحد پر بحرانی صورت حال سے نمٹا جا سکے۔حالیہ دنوں کے دوران ٹرمپ اور کانگریس کے قائدین کے درمیان یہ تیسری ملاقات تھی۔امریکا کے چوٹی کے اہلکاروں کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ ایسے میں ہوا جب امریکی تاریخ کا حکومتی بندش کا دوسرا طویل ترین شٹ ڈاؤن

جاری ہے۔ طویل ترین شٹ ڈاؤن تین دِن زیادہ تھا۔ 22 دسمبر سے حکومتی ملازمین کی ایک چوتھائی کام پر نہیں آتی، جس سے حکومت کے کئی ایک ادارے بند پڑے ہیں، جب کہ وفاقی سول ملازمین جن کی تعداد 800000 ہے ’فرلو‘ پر ہیں یا پھر بغیر اجرت کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…