پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

بس کر دو یار!کل میں نے قاضی صاحب کی یاد میں تقریر بھی روتے ہوئے کی تھی ، دراصل میری۔۔فیاض چوہان نے صحافیوں سے معافی مانگتے ہوئے اپنے نامناسب روئیے کی وجہ بھی بتا دی

datetime 9  جنوری‬‮  2019 |

لاہور(بیورورپورٹ) صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب فیاض الحسن چوہان نے صحافیوں سے گزشتہ روز کے نامناسب روئیے کی معافی مانگ لی، قاضی حسین احمد کی یاد میں منعقدہ تقریب میں تقریر سے کچھ دیر قبل علم ہوا کہ اہلیہ سروسز ہسپتال میں بیہوش پڑی ہیں جس پر ٹینشن میں تھا، فیاض الحسن چوہان کی پنجاب اسمبلی کے باہر صحافیوں کے سامنے معاملے کی وضاحت۔ تفصیلات کے

مطابق صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے صحافیوں سے گزشتہ روز کے نامناسب روئیے کی معافی مانگ لی ۔ آج جب وہ پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرنے کیلئے آئے تو صحافیوں نے نعرے بازی شروع کر دی،فیاض چوہان نے صحافیوں سے کہا کہ ان کی بات سن لی جائے جس پر صحافیوں نے کہا کہ وہ بات نہ کریں، صحافیوں کے شور شرابے میں وزیر اطلاعات نے بات جاری رکھتے ہوئے صحافیوں کو مطمئن اور خاموش کرانے کیلئے متعدد درخواستیں کیں ، انہوں نے صحافیوں سے درخواست کی میری بات سن لیں انہوں نے اپنے کل کے روئیے کا پس منظر بتاتے ہوئےکہا کہ آپ لوگوں کو پس منظر کا پتا نہیں، صحافیوں نے فیاض الحسن چوہان کو کہا کہ سیاستدان سیاست کریں اور صحافیوں کو سوال کرنے دیں جس پر فیاض الحسن چوہان نے اپنی بات کہنے کیلئے بار بار اصرار کیا جس پر صحافیوں نے خاموشی اختیار کر لی۔صحافیوں کی جانب سے خاموش ہونے پر فیاض الحسن چوہان نے اپنے گزشتہ روز کے روئیے کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ قاضی حسین احمد کی یاد میں تقریر سے پہلے میرے ڈرائیور نے ایک چٹ دی جس پر تحریر تھا آپ کی اہلیہ سروسز اسپتال میں بےہوش پڑی ہیں۔جس پر صحافیوں نے کہا اللہ آپ کی اہلیہ کو صحت دے، جس کے بعد فیاض الحسن چوہان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا میں نے روتے روتے قاضی حسین احمد کی یاد میں تقریر کی جس کے بعد صحافی نے سوال کیا آپ قاضی حسین کی بات کررہے ہیں اور امیر جماعت عمران خان کے لیے یہ باتیں کر گئے، موقع کی مناسبت سے یہ بات غلط تھی۔فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ میں ٹینشن میں تھا اور اس طریقے سے جواب دیا، اگر کسی کو برا لگا ہے تو معافی مانگتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…