جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

عمران خان وزیراعظم ہائوس میں رہتے نہیں کیا جن آکر اتنی بجلی استعمال کر گئے؟ خالی وزیراعظم ہائوس میں ایک ماہ کے دوران کتنے ہزاریونٹ بجلی استعمال ہوئی؟ آئیسکو کی جانب سے بھیجے گئے بل نے بھانڈا پھوڑ دیا

datetime 9  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم ہائوس 10کروڑ سے زائد کا نادہندہ، خزانے کیلئے سفید ہاتھی بن گیا،وزیراعظم ہائوس کا ایک ماہ کا بجلی کا بل 15لاکھ 31ہزار 805روپے، گزشتہ ایک ماہ میں 84ہزار یونٹ استعمال۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزیراعظم ہائوس میں رہائش نہ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد انہوں نے اپنے ملٹری سیکرٹری کے

گھر کو اپنی رہائش گاہ بنایا اور اہلیہ کے ہمراہ وہیں مقیم ہیں جبکہ وزیراعظم ہائوس میں موجود سٹاف کو بھی کم کر دیا گیا تھا اور صرف ضروری سٹاف ہی وہاں موجود ہے ایسے میں وزیراعظم ہائوس کے بجلی کے بل نے سب کو حیران کر دیا ہے کیونکہ وزیراعظم ہائوس کے بجلی کے بل میں صاف طور پر یہ چیز درج ہے کہ گزشتہ ماہ وزیراعظم ہائوس میں 84ہزار یونٹ استعمال کئے گئے ہیں جن کا بل 15لاکھ 31ہزار 805روپے تک آیا ہے۔ اگر وزیراعظم عمران خان وزیراعظم ہائوس میں نہیں رہ رہے اور کفایت شعاری کو بھی اپنایا گیا ہے اور سٹاف کو بھی کم کر دیا گیا ہے تو حکومتی دعوئوں کے برعکس بجلی کا یہ بل بہت زیادہ ہے۔ آئیسکو ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہائوس آئیسکو کا 9کروڑ 97لاکھ 87ہزار 687روپے کا نادہند ہے اور اس کے ذمہ واجب الادا بجلی کے بل کی مد میں رقم 10کروڑ 13لاکھ 68ہزار 420روپے تک پہنچ گئی ہے۔ آئیسکو ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہائوس آئیسکو کا 9کروڑ 97لاکھ 87ہزار 687روپے کا نادہند ہے اور اس کے ذمہ واجب الادا بجلی کے بل کی مد میں رقم 10کروڑ 13لاکھ 68ہزار 420روپے تک پہنچ گئی ہے۔خیال رہے کہ وزیراعظم ہائوس کے بجلی بل کی ادائیگی بی ڈبلیو ڈی کی ذمہ داری ہوتی ہے، وزیراعظم ہائوس کے جولائی، اگست اور ستمبر کے بجلی کے بل ادا نہیں کئے گئے ، وزیراعظم ہائوس کی طرف سے بجلی کا 5لاکھ 9ہزار 427کا آخری بل نومبر میں جمع کرایا گیاہے۔

موضوعات:



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…