اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

قطر نے ترکی کو اپنی سرزمین پر فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت دیدی

datetime 9  جنوری‬‮  2019 |

دبئی(این این آئی) قطر اور ترکی کے درمیان ایک خفیہ دفاعی معاہدے کا انکشاف ہوا ہے ،اس سمجھوتے کے تحت قطر نے ترکی کو اپنی سرزمین پر ایک فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت دیدی۔عرب ٹی وی کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اس پراسرا معاہدے کی تفصیلات ایک سویڈش ویب سائیٹ کے ذریعے لیک ہوئیں۔رپورٹ کے مطابق ترکی اور قطر کے درمیان عسکری سمجھوتے کی کئی پراسرار شرائط ہیں۔

ایسے لگتا ہے کہ وہ شرائط دانستہ اور کسی طے شدہ منصوبے کا حصہ ہیں۔ یہ شرائط ترکی کے سیاسی اغراض ومقاصد اور حکمراں جماعت کی پالیسیوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ معاہدے کی ایک شرط یہ ہے کہ قطر اپنی فضاء اور سمندر کو ترکی کے صدر طیب ایردوآن و خلیجی خطے میں اپنے نظریات کی ترویج کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔ علاہ ازیں ترک صدر کے ذاتی اور شخصی اھداف مفادات کو یقینی بنانے میں دوحہ مدد فراہم کرے گا۔ اس معاہدے کے تحت نیٹو کا رکن ہونے کے باوجود کسی بھی کارروائی میں ترکی اپنی فوج کو بھی استعمال کرسکے گا۔رپورٹ کے مطابق قطر اور ترکی کے درمیان طے پائیمعاہدے کے کئی خطرناک پہلو ہیں۔ خطے میں کسی بھی کشیدگی کی صورت میں ترکی خواہ مخواہ جنگ میں الجھ سکتا ہے جس کا ترکی کے مفادات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔دونوں ملکوں کے درمیان طے پائے فوجی سمجھوتے میں بات دوطرفہ فوجی مشقوں میں شراکت تک محدود نہیں بلکہ عملی کارروائی کی شق شامل کی گئی ہے۔ اس طرح صدر طیب ایردوآن بیرون ملک کسی بھی آپریشن میں فوج بھیج سکتے ہیں۔ترکی اور قطر کے درمیان یہ دفاعی سمجھوتہ دو سال قبل طے پایا۔ 2017ء کو ترک پالیمنٹ نے اس کی توثیق اور وسیع کی۔ ترکی نے قطر کے ساتھ دفاعی سمجھوتہ کرکے سعودی عرب ،امارات اور خطے کے دوسرے ممالک کو یہ پیغام دیا تھا کہ انقرہ اپنے اتحادی قطر کے ساتھ کھڑا ہے۔ترکی اور قطر میں طے پائے دفاعی معاہدے کو مملکت قطر میں جمہوریہ ترکی کو اپنی مسلح افواج تعینات کرنے کی اجازت کا عنوان دیا گیا۔ اس معاہدے پر 28اپریل 2016ء کو دوحہ میں دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کا آرٹیکل 4 زیادہ پراسرار ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر طیب ایردوآن کو اپنے ملک کی پارلیمنٹ سے بیرون ملک کسی بھی

مشن پر فوج تعینات کرنے کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ ترک صدر ذاتی طورپر قطر میں اپنی فوج کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ کسی بھی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔ ایسا کرنا خود ترکی کے اپنے دستور کے خلاف ہے اور ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔

معاہدے کی اگلی شق میں قطر میں ترک فوج کی تعیناتی کا مقصد قطری فوج کی دفاعی شعبے میں تربیت، انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں معاونت اور دوسرے ممالک میں مشترکہ آپریشنز میں حصہ لینا بتایا گیا ہے۔نو جون 2017ء کو ترک پارلیمنٹ نے قطر میں ترک فوج کی تعیناتی کی توثیق کی۔ اس توثیق میں قطر میں فوج کی تعیناتی کی مدت کا کوئی تعین نہیں کیا گیا۔ ترک فوج قطر میں کب تک رہے گی۔

اور اس کی تعداد کیا ہوگی۔ یہ سب کچھ صدر طیب ایردوآن پر چھوڑ دیاگیا ہے۔معاہدے کے آرٹیکل 17 میں قطر میں ترک فوج کی تعیناتی کا ابتدائی عرصہ 10 سال رکھا گیا ہے۔ یہ عرصہ ختم ہونے کے بعد اس میں پانچ سال کی توسیع کی جاسکتی ہے۔ یہ توسیع بار بار کرنے کے لیے ترکی کو اختیار دیا گیا ہے۔معاہدے میں یہ واضح نہیں کہ آیا قطر میں کتنی ترک فوج تعینات ہوگی۔ معاہدے میں لکھا گیا ہے

کہ ترکی قطر کواپنے دفاع کے لیے جس طرح کی دفاعی ضرورت ہوگی مہیا کرے گا۔ ترکی کی جانب سے قطر کو فضائی، بری اور نیول فورس کے دستے مہیا کیے جائیں گے۔سویڈش ویب سائیٹ کی رپورٹ کے مطابق قطر اور ترکی کے درمیان طے پایا معاہدہ ان کی دفاعی ضروریات سے زیادہ ان کے خطے میں مشترکہ مقاصد کے تحفظ کے لیے ہونیوالی مشترکہ کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…