بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دور میں نکالے جانیوالے سابق چیئرمین نادرا طارق ملک کے ساتھ وطن واپسی پر تحریک انصاف کی حکومت نے کیا سلوک کیا؟ افسوسناک انکشاف

datetime 7  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نادرا کے سابق چیئرمین طارق ملک کا کہنا ہے کہ میں اپنے والد کی بیماری پر ان کے خبر گیری کے لیے پاکستان آیا تو میرا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا، انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماتحت عدالت میں میرا کیس ایک ماہ سے سنا ہی نہیں جا رہا،

انہوں نے کہا کہ لوئر کورٹس دیگر ’’بلاولوں‘‘ پر بھی توجہ دیں۔ سابق چیئرمین نادرا نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کی حکومت نے جب مجھے نکالا تو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بڑا زبردست فیصلہ دیا لیکن میں نے نوکری چھوڑ دی اور بیرون ملک چلا گیا اور اقوام متحدہ میں آج کل چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر کے طور پر کام کر رہا ہوں، اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ اپنے بیمار والد کی خبر گیری کے لیے پاکستان آنا چاہا تو مجھے پتہ چلا کہ میرا پاسپورٹ بلاک ہے جس پر میں عدالت گیا اور حفاظتی ضمانت لے کر پاکستان آیا۔ پروگرام میں انہوں نے بتایا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ میرا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ وزارت دفاع میں جا کر ڈپٹی سیکرٹری سے تصدیق کی ہے کہ ای سی ایل میں میرا نام ہے، سابق چیئرمین نادرا طارق ملک کا اس موقع پر کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے بلاول بھٹو کانام تو ای سی ایل سے نکال دیا لیکن لوئر کورٹ کا یہ حال ہے کہ ایک ماہ سے میرے کیس کی سماعت نہیں ہو رہی، انہوں نے کہا کہ لوئر کورٹس کے وکیلوں کو چاہیے کہ اب ہڑتال ختم کریں تاکہ دیگر بلاولوں کی بھی سنی جائے۔  نادرا کے سابق چیئرمین طارق ملک کا کہنا ہے کہ میں اپنے والد کی بیماری پر ان کے خبر گیری کے لیے پاکستان آیا تو میرا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا، انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماتحت عدالت میں میرا کیس ایک ماہ سے سنا ہی نہیں جا رہا، انہوں نے کہا کہ لوئر کورٹس دیگر ’’بلاولوں‘‘ پر بھی توجہ دیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…