پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

سی ڈی اے شعبہ تعمیرات میں گزشتہ 3سالوں میں ترقیاتی کاموں کی مد میں2ارب 23کروڑ کا فرا ڈ، افسران نے کروڑ وں کما لئے

datetime 6  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے شعبہ تعمیر ات میں گزشتہ 3سالوں کے دوران ترقیاتی کاموں کی مد میں2ارب 23کروڑ کا فراڈ کیا گیا، I-9میں واقع واٹر سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے لئے ادارے کی طرف سے 15کروڑ جاری کئے گئے تاہم 3سالوں میں ایک گیلن پانی بھی میسر نہیں ہو سکا، ڈپٹی ڈی جی اور اس کے ماتحت افسران نے 1کروڑ25لاکھ کے بوگس چیک جاری کر دےئے ہیں ۔

وفاقی دارالحکومت کی سڑکوں اور فٹ پاتھوں کے نام پر افسران نے کروڑ وں روپے کما لئے، سڑکیں اکھاڑ بچھاڑ کا نمونہ پیش کر رہی ہیں، فیصل چوک سے F-10 F-11جانے والی سڑک پر مینٹیننس کے نام پر 90کروڑ خرچ کر دےئے گئے لیکن یہ سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکارہے جبکہ I-9 I-10-G-10اوراس کے گرد و نواح میں سڑکوں کی خستہ حالی کو دیکھ کر دیہاتوں کا سماں نظر آتا ہے باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سی ڈی اے میں ترقیاتی کاموں کی مد میں پچھلے دو سالوں کے دوران اربوں کا نقصان پہنچا دیا گیا سی ڈی اے میں ہر سال ترقیاتی کاموں کے لئے 15سے20ارب روپے خرچ کرنے کا دعوی کیا جاتا ہے اور اس کا بجٹ بھی 40ارب سے زیادہ پیش کیا جاتا ہے لیکن وفاقی دارالحکومت کے باسی ادارے کے افسران و انتظامیہ کے کردار سے عاجز آ چکے ہیں اسلام آباد کے باسیوں کو صاف پانی مہیا کرنے کی غرض سے بنائے جانے والے واٹر سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کئے جانے کے باوجود تین سالوں میں یہ ٹریٹمنٹ پلانٹ تعمیر نہ کیا جا سکا جبکہ 15کروڑ روپے غبن کئے جا چکے ہیں ذرائع نے بتایا کہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے 15کروڑ کے فراڈ میں ملوث افسران ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل نجیب،ڈائریکٹر فیصل رضا،ڈپٹی ڈائریکٹر ملک اکرم اور اکاونٹ افیسر سہیل یعقوب بٹ کے خلاف تحقیقاتی ادارے نیب اور ایف آئی اے میں کیس زیر سمات رہا لیکن مذکورہ افسران کی ملی بھگت سے کیس کی تا حال کوئی تحقیقات عمل میں نہیں لائی جا سکی

اور کروڑوں کی کرپشن کرنے والے حکام اپنی مزید عیاشیوں میں مصروف عمل ہیں اس کے علاوہ ادارے کی طرف سے ہر سال اسلام آباد کے مختلف سیکٹروں کی سڑکوں گلیوں اور فٹ پاتھوں کی مینٹیننس کے لئے کروڑوں روپے جاری کئے جاتے ہیں لیکن نہ ہی فٹ پاتھ،گلیاں اور سڑکین بنائی جاتی ہیں اور نہ شہریوں کی شکایات کو سنا جاتا ہے اس کے باوجود ادارے کے کرپٹ افسران بوگس چیک جاری کر کے ٹھیکیداروں سے

کمیشن کے عوض قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچانے میں کردار ادا کرتے ہیں ذرائع نے بتایا کہ I-9 I-10انڈسٹریل ایریاز میں پچھلے سال ایک پلان بنایا گیا جس کے تحت اس روڈ کی مینٹینینس پر 1ارب روپے جاری کئے گئے اور ٹھیکیدار نے چند روز کام کیا اس کے بعد ملی بھگت سے بھاری رقم لے کر فرار ہو گیا دو سال گزرنے کے باوجود نہ ہی ٹھیکیدار کے خلاف ایکشن لیا جا سکا اور نہ منتظمین سے کسی نے پوچھ گچھ کی گئی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…