منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان میں گوبر سے پیدا ہونے والی گیس سے بسیں چلانے کا فیصلہ

datetime 3  جنوری‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) شہرقائد سے فضائی آلودگی اور درختوں کی کٹائی سے پیدا ہونے والی گرمی کے خاتمے کی خاطر ایسی بسیں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو گوبر سے پیدا ہونے والی بایو میتھین گیس سے چلیں گی۔ ابتدائی طور پر 200 ایسی بسیں گرین بس ریپڈ ٹرانزٹ(بی آر ٹی)نیٹ ورک کے تحت متعارف کرائی جائیں گی۔ ان بسوں کے لیے سرمایہ انٹرنیشنل گرین کلائمٹ فنڈ مہیا کرے گا۔

عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق 2020 میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ فضائی آلودگی اور شور شرابے کو کم کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوگا لیکن تاحال یہ سوال اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ کیا متعارف کرائی جانے والی بسیں روشنیوں کے شہر کے لیے کافی ہوں گی؟۔کراچی میں رہنے والے 45 سالہ میڈیکل سیلز ری پریزنٹیٹو افضال احمد کے مطابق شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل طور پر تباہی کا شکار ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت آن لائن ٹیکسی سروس استعمال کرتی ہے اور یا پھر سفر کے لیے آٹو رکشہ پہ جانے پر مجبور ہوتی ہے۔افضال احمد نے بتایاکہ کچھ انتظامی مسائل کی بنیاد پر کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو تقریبا دو دہائی قبل بند کردیا گیا تھا جس کے بعد چین سے درآمد شدہ ایسی بسیں منگوائی گئی تھیں جن میں قدرتی گیس کا استعمال ہوتا تھا لیکن اب وہ بھی سڑکوں سے تقریبا غائب ہوچکی ہیں۔وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے کلائمٹ چینج ملک امین اسلم کے مطابق بی آرٹی نظام پہلا ٹرانسپورٹ پروجیکٹ ہے جسے گرین کلائمٹ فنڈ نے منظور کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس نظام سے بے پناہ ماحولیاتی و معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس نظام کے تحت چلنے والی ٹرانسپورٹ کو حکومتی امداد و مالی مدد کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔خبررساں ایجنسی کے مطابق دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق بی آر ٹی نیٹ ورک کے تحت چلنے والی بسوں میں یومیہ تین لاکھ 20 مسافروں کے سفر کرنے کی گنجائش ہوگی اورفضا تقریبا 2.6 ملین ٹنز کاربن ڈائی آکسائیڈ سے آئندہ 30 سال تک محفوظ رہ سکے گی۔

کراچی میں متعارف کرایا جانے والا بی آرٹی نظام 30 کلومیٹر پر محیط ہو گا جو 18.6 میل کے مساوی ہے اور اس سے 1.5 ملین شہریوں کو فائدہ پہنچے گا۔خبررساں ایجنسی کے مطابق 30 کلومیٹر کے احاطے میں 25 نئے بس اسٹاپس بنائے جائیں گے، پیدل چلنے والے مسافروں کی حفاظت کے لیے محفوظ راستے تعمیر ہوں گے، موٹربائیکس اور سائیکلوں کے لیے مناسب سہولیات مہیا کی جائیں گی۔گرین کلائمٹ فنڈ اقوام متحدہ کی زیرنگرانی

قائم کیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد ترقیافتہ ممالک کو ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں مدد و معاونت فراہم کرنا ہے۔عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق کراچی کے اس منصوبے کی کل لاگت کا تخمینہ 583.5 ملین ڈالرز لگایا گیا ہے جس میں سے گرین کلائمٹ فنڈ 49 ملین ڈالرز کی رقم فراہم کرے گا۔اس پروجیکٹ میں ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور حکومت سندھ کی مالی معاونت بھی حاصل ہوگی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…