اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

ذہنی دباﺅاور جگر کی بیماری جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے: تحقیق

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) ایک دس سالہ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جن لوگوں میں پریشانی اور ڈپریشن ہے، ان کے لیے جگر کی بیماریوں سے مرنےکا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔برطانیہ کی ‘ایڈنبرا یونیورسٹی’ میں کلینکل فار برین سائنس سینٹر سے وابستہ تحقیق دانوں کے مطابق، یہ پہلی تحقیق ہےجس سے نفسیاتی مسائل اور جگر کی مختلف بیماریوں کےنتیجےمیں ہونے والی اموات کےدرمیان ممکنہ تعلق کی نشاندھی ہوئی ہے۔یہ بات ‘جرنل گیسٹروانیٹرو لوجی ‘میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ڈاکٹر ٹام رس کی ٹیم نے تحقیق کے لیے 165,000 لوگوں میں نفسیاتی تکالیف سے متعلق ایک سروے پر تفتیش کی، جس کے بعد محققین نے 10 سال تک شرکائ کی صحت کا جائزہ لیا اور اس دوران ہونے والی اموات کی وجوہات کا ریکارڈ تیار کیا۔نتائج سے وضاحت ہوئی کہ انفرادی طور پر جن شرکاءنے نفسیاتی علامات کے ساتھ زیادہ نمبر حاصل کئے تھے ان میں جگر کی بیماریوں سے مرنے کا امکان ان لوگوں سے زیادہ تھا جنھوں نے پریشانی اور ڈپریشن کے لیے کم نمبر حاصل کئے تھے۔محققین نے اپنی تحقیق میں سماجی اور اقتصادی عوامل کے علاوہ شراب نوشی، ذیا بیطس، موٹاپے کےحوالے سے بھی اعداد و شمار کو شامل کیا۔ اس کے باوجود، نتائج میں ذہنی دباو¿ اور جسمانی صحت کےنظام کےدرمیان واضح تعلق کا اشارہ تھا۔تحقیق کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر ٹام رس نے کہا کہ’یہ مطالعہ دماغ اور جسم کے درمیان اہم روابط کے لیے مزید ثبوت فراہم کرتا ہے’۔انھوں نے مزید کہا کہ’نفسیاتی دباو¿ کےجسمانی صحت پر نقصان دہ اثرات ہیں۔ تاہم، ہم اس تعلق کی براہ راست وجہ اور اثر کی تصدیق کرنے کے قابل نہیں ہیں لیکن یہ تحقیق مستقبل کے مطالعوں کے لیے مزید ثبوت فراہم کرتی ہے’۔محققین نے کہا ہے کہ ایک پچھلے مطالعے میں بتایا گیا تھا کہ پریشانی اور ذہنی دباو¿ سے دل کی بیماریوں کا خطرے بڑھتا ہے۔سائنسدان نے اس تعلق کی وضاحت میں دل کی بیماریوں کے خطرے کےعوامل مثلا ہائی بلڈپریشر اور موٹاپے کو جگر کی بیماری کی عام شکل یعنی فربہ جگر کی بیماری کے ساتھ منسلک کیا ہے۔محقق ٹام رس نے کہا ‘بالکل اسی طرح ذہنی دباو¿ جگر کی بیماریوں سےمرنے کے خطرے کےساتھ بالواسطہ طور پر منسلک کیا جا سکتا ہے’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…