جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مالی سال 2018-19ء کے پہلے پانچ ماہ، تجارتی خسارہ 14.51 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

datetime 19  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کا کہنا ہے کہ مالی سال 2018-19ء کے پہلے پانچ ماہ میں تجارتی خسارہ 14.51 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ تفصیلا ت کے مطابق مالی سال 2018-19 ء کے پہلے پانچ ماہ ( جولائی تا نومبر 2018ء ) کے دوران برآمدات

اور درآمدات میں نمایاں اضافے کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 14.51 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2018-19 ء کے پہلے پانچ ماہ (جولائی تا نومبر 2018ء) کے دوران 9 ارب 12کروڑ ڈالر کی برآمدات کی گئیں، جو گزشتہ مالی سال 2017-18 ء کے پہلے پانچ ماہ (جولائی تا نومبر 2017ء) کی 9 ارب ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں 11کروڑ 60 لاکھ ڈالر زیادہ رہیں۔ اس طرح گذشتہ سال کے مقابلے میں برآمدات میں 1.29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، دوسری جانب ملکی درآمدات مالی سال 2018-19ء کے پہلے پانچ ماہ (جولائی تا نومبر 2018ء) کے دوران 23 ارب 63کروڑ ڈالر رہیں، جو گذشتہ مالی سال 2017-18ء کے پہلے پانچ ماہ (جولائی تا نومبر 2017ء) کی 23 ارب 81 کروڑ ڈالر کی درآمدات کے مقابلے میں18 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کم رہیں۔ پی بی ایس کا کہنا ہے کہ اس طرح درآمدات میں 0.78 فیصدکی کمی ریکارڈ کی گئی، اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال 2017-18ء کے پہلے پانچ ماہ (جولائی تا نومبر 2017ء) کے دوران تجارتی خسارہ 14 ارب 81کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا، جو مالی سال 2018-19ء کے پہلے پانچ ماہ (جولائی تا نومبر 2018ء) کے 14 ارب 51 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے تجارتی خسارے کے مقابلے میں 31 کروڑ ڈالر سے کم رہا، اس طرح تجارتی خسارے میں 2.03 فیصدکمی ریکارڈ کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…