ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

یمنی حکومت اور حوثی حدیدہ شہر کیلئے جنگ بندی پر رضا مند

datetime 14  دسمبر‬‮  2018 |

رمبو،سویڈن (این این آئی) یمن کی حریف جماعتوں نے حوثیوں کے زیر اثر ساحلی شہر حدیدہ کے لیے جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کرلیا اور شہر سے اپنی افواج نکالنے پر راضی ہوگئے۔ یمن کی دونوں حریف جماعت کے درمیان جنگ بندی 5 برس سے جاری تنازع میں اقوام متحدہ کی قیادت میں کی جانے والی امن کی کوششوں کی پہلی اہم کامیابی ہے۔اقوام متحدہ کی زیر نگرانی یمنی حکومت اور

حوثی باغیوں کے درمیان سوئیڈن میں جاری مذاکرات کامیاب ہوگئے، فریقین نے حدیدہ میں جنگ بندی پر اتفاق کرلیا۔امن مذاکرات کے اختتامی اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ یمن حکومت اور باغی گروپ حدیدہ شہر اور بندرگاہ پر جنگ بندی کے لیے رضامند ہو گئے ہیں، اقوام متحدہ حدیدہ میں اب مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے شہریوں کو امداد پہنچانے کا کام کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے اور قیدیوں کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا ہے۔یمن تنازع پر امن مذاکرات کا دوسرا دور جنوری کے آخر ہو گا۔معاہدے کے مطابق دونوں فریقین سمیت دوبارہ تعیناتی تعاون کمیٹی جنگ بندی اور انخلا کے عمل کو دیکھیں گی اور ہفتہ وار اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو رپورٹ دی جائے گی۔اس کے علاوہ بین الاقوامی مانیٹرز حدیدہ شہر اور تینوں بندرگاہوں پر تعینات ہوں گے اور جنگ بندی کے 21 روز کے اندر تمام مسلح فورسز کو واپس جانا ہوگا۔سویڈن میں ایک ہفتے کے مذاکرات کے اختتام پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیوترس کا کہنا تھا کہ ایرانی اتحادی حوثی باغیوں اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی صدر عبد ربو منصور ہادی کے درمیان سیاسی مذاکرات کے معاملے پر اگلے مرحلے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔خیال رہے کہ مغربی ممالک، جن میں سے کچھ 2015 میں یمن میں مداخلت کرنے والے سعودی اتحاد کو اسلحہ اور انٹیلی جنس فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے خاتمے کے لیے ایک وسیع پیمانے پر معاہدے اور سیاسی عمل پر اعتماد سازی کے اقدامات پر اتفاق کریں۔یاد رہے کہ یمن میں جاری تنازع میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور جزیزہ نما عرب کا سب سے غریب ملک یمن قحط کے دہانے پر موجود ہے۔ادھر ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا تھا کہ حدیدہ معاہدہ شدید بھوک کا شکار

ایک کروڑ 20 لاکھ یمنیوں کو خوراک پہنچانے کے ان کے مشن کے لیے بہت ضروری تھا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیوترس کا کہنا تھا کہ ’ آپ حدیدہ بندرگاہ اور شہر کیلئے ایک معاہدے پر پہنچے، جو بندرگاہ اور شہر سے باہمی طور پر فورسز کی واپسی کا باعث بنے گا اور وسیع پیمانے پر جنگ بندی کا قیام عمل میں آئے گا۔رمبو میں نیوز کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ بندرگاہ میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سفیر مارٹن گرفٹس کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین بندرگاہ جو یمن کی اہم تجارتی درآمدات اور امداد کے لیے مرکزی داخلی راستہ ہے، وہاں سے ’دنوں‘ میں انخلا کریں گے، اس کے بعد حدیدہ شہر سے انخلا کا عمل ہوگا جہاں اتحادی افواج کی بڑی تعداد موجود ہے۔اس کے علاوہ حوثی فورسز اناج کے لیے استعمال ہونے والی صالف بندرگاہ اور تیل کیلیے استعمال ہونے والی راس ایسا ٹرمنل سے بھی انخلا کریں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…