بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

بندروں کا سرکاری عمارتوں پر قبضہ : بھارتی حکومت بے بس

datetime 12  دسمبر‬‮  2018 |

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی دارالحکومت کی اہم عمارتوں پر بندروں نے قبضہ کرلیا اور اب وہ آنے جانے والے افراد کو تنگ کرتے ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دہلی کی اہم سرکاری عمارتوں پر چار ہزار سے زائد بندر عمارتوں پر ڈیرہ ڈالے بیٹھے ہیں۔

اس ضمن میں پولیس اور انتظامیہ بے بس نظر آرہی ہے۔ بھارتی دارالحکومت کی پارلیمنٹ سمیت کئی اہم سرکاری عمارتیں بندروں کے قبضے میں ہیں۔ انتظامیہ نے سرکاری عمارتوں میں کام کی غرض سے آنے والے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ’بندروں سے ممکنہ حد تک دور رہیں اور اگر وہ سامنے آجائیں تو انہیں نظر انداز کریں، بھگانے کی صورت میں وہ حملہ کردیتے ہیں‘۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق آئندہ برس ملک میں عام انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا مگر اُس سے پہلے وفاقی حکومت کو بندروں کے خلاف جنگ جیتنی پڑے گی اور انہیں شہر سے دور بھگانا ہوگا۔ لال چہروں والے بندر سرکاری عمارتوں میں آنے والے لوگوں سے موبائل فون یا کوئی بھی چیز چھین کر فرار ہوجاتے ہیں جبکہ انہوں نے کئی خواتین سے بیگ بھی چھینے اور انہیں زخمی بھی کیا۔ وزیر دفاع نے ایوان میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعظم ہاؤس اور فنانس ڈویژن کو بھی بندروں نے نقصان پہنچایا، حکومت کو جنگلی جانوروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانی ہوگی‘۔ وزارتِ داخلہ کے ملازم راگنی شرما کا کہناتھا ’یہ بہت ہی ناخوشگوار بات ہے جب کوئی شخص مدد کے لیے ہمارے پاس آئے اور بندر اُس سے موبائل یا کھانا چھین کر بھاگ جائیں‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’بندروں نے لوگوں سے کئی قیمتی کاغذات بھی چھینے اور انہیں ضائع کیا‘۔ منگل کو ہونے والے اسمبلی اجلاس میں انتظامیہ کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ’سردیوں کی آمد اور اس سے محفوظ رہنے کے لیے بندروں نے عمارتوں میں ڈیرے ڈالے، اگر اُن کی طرف کوئی دیکھتا ہے تب ہی وہ حملہ آور ہوتے ہیں‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…