پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

بندروں کا سرکاری عمارتوں پر قبضہ : بھارتی حکومت بے بس

datetime 12  دسمبر‬‮  2018 |

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی دارالحکومت کی اہم عمارتوں پر بندروں نے قبضہ کرلیا اور اب وہ آنے جانے والے افراد کو تنگ کرتے ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دہلی کی اہم سرکاری عمارتوں پر چار ہزار سے زائد بندر عمارتوں پر ڈیرہ ڈالے بیٹھے ہیں۔

اس ضمن میں پولیس اور انتظامیہ بے بس نظر آرہی ہے۔ بھارتی دارالحکومت کی پارلیمنٹ سمیت کئی اہم سرکاری عمارتیں بندروں کے قبضے میں ہیں۔ انتظامیہ نے سرکاری عمارتوں میں کام کی غرض سے آنے والے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ’بندروں سے ممکنہ حد تک دور رہیں اور اگر وہ سامنے آجائیں تو انہیں نظر انداز کریں، بھگانے کی صورت میں وہ حملہ کردیتے ہیں‘۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق آئندہ برس ملک میں عام انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا مگر اُس سے پہلے وفاقی حکومت کو بندروں کے خلاف جنگ جیتنی پڑے گی اور انہیں شہر سے دور بھگانا ہوگا۔ لال چہروں والے بندر سرکاری عمارتوں میں آنے والے لوگوں سے موبائل فون یا کوئی بھی چیز چھین کر فرار ہوجاتے ہیں جبکہ انہوں نے کئی خواتین سے بیگ بھی چھینے اور انہیں زخمی بھی کیا۔ وزیر دفاع نے ایوان میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعظم ہاؤس اور فنانس ڈویژن کو بھی بندروں نے نقصان پہنچایا، حکومت کو جنگلی جانوروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانی ہوگی‘۔ وزارتِ داخلہ کے ملازم راگنی شرما کا کہناتھا ’یہ بہت ہی ناخوشگوار بات ہے جب کوئی شخص مدد کے لیے ہمارے پاس آئے اور بندر اُس سے موبائل یا کھانا چھین کر بھاگ جائیں‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’بندروں نے لوگوں سے کئی قیمتی کاغذات بھی چھینے اور انہیں ضائع کیا‘۔ منگل کو ہونے والے اسمبلی اجلاس میں انتظامیہ کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ’سردیوں کی آمد اور اس سے محفوظ رہنے کے لیے بندروں نے عمارتوں میں ڈیرے ڈالے، اگر اُن کی طرف کوئی دیکھتا ہے تب ہی وہ حملہ آور ہوتے ہیں‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…