اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

علیمہ خان کی اربوں روپے کی بے نامی جائیداد پر نیب اور چیف جسٹس کی خاموشی سوالیہ نشان ہے،اہم سیاسی شخصیت نے کھری کھری سنادیں

datetime 11  دسمبر‬‮  2018 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک میں جاری احتساب صرف سیاسی مخالفین کیلئے ہے اور نیب حکومت کے اشاروں پرکٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہا ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مقتدر قوتیں مخصوص شخص اور جماعت کو اقتدار حوالہ کرنے کے بعد پانامہ سکینڈل پر خاموش ہو گئی ہیں جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ پانامہ کو سیاسی حریفوں کے خلاف استعمال کیا گیا جبکہ علیمہ خان کی اربوں روپے کی بے نامی

جائیداد پر خاموشی نیب اور چیف جسٹس کے سوموٹو ایکشن پر سوالیہ نشان ہیں، انہوں نے کہا کہ احتساب سب کا بلا امتیاز ہونا چاہئے اور بہتر ہوتا یہ احتساب وزیر اعظم اور ان کے خاندان سے شروع کیا جاتا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے والی قوتیں ملکی حالات اور معیشت کی تباہ کن صورتحال پر انگشت بدندان ہیں ، انہوں نے کہا کہ عمران خان کسی بھی طرح بھاگنے کی کوشش کریں گے تاہم انہیں ہم بھاگنے نہیں دیں گے عوام کو سو دن کے جو سہانے خواب دکھائے گئے ان کی تعبیر سامنے لانا ہوگی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے کیونکہ پی ٹی آئی تاریخ میں پہلی اور آخری بار حکومت میں آئی ہے ، انہوں نے کہا کہ بیساکھیوں کے سہارے کھڑی حکومت سو دن میں ایکسپوز ہو چکی ہے اور ملکی معیشت کو تباہی سے دوچار کر دیا گیا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرنے والوں نے تجاوزات کے نام پر ہزاروں خاندان کو بے روزگار کر دیا ہے جبکہ پچاس لاکھ گھروں کے وعدے پر شیلٹر ہوم سے پردہ ڈالا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں اور اے این پی طویل عرصہ سے ان پالیسیوں کو ری وزٹ کرنے کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ افغانستان امن مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار تمام سٹیک ہولڈرز کی صدق دل سے کی جانے والی کوششوں پر ہے ،انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات افغانستان سمیت پاکستان کی بقاء اور سلامتی کیلئے انتہائی اہمیت کے ھامل ہیں اور اگر طالبان نے مذاکراتی عمل میں شرکت سے انکار کیا تو پاکستان اس کے بھیانک نتائج کی زد میں آجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…