بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

افسر شاہی کی شامت آگئی، وزیراعظم عمران خان کیا کام کرنیوالے ہیں؟ ایسا اعلان کر دیا گیا کہ جان کر بڑے بڑے افسروں کا خون خشک ہو جائیگا

datetime 10  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے معروف صحافی، تجزیہ کار مظہر عباس کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ اپنےآج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور(1958-1968)کی مثالیں دیتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہےکہ بعدمیں آنےوالی جمہوری حکومتوں نےانتخابات جیتنےکیلئےصرف مختصرمدتی پرا جیکٹس کاسوچا۔ اب کیا یہ

جمہوری نظام کی ناکامی کے باعث تھا کہ وہ ایوب دور کی تعریف کرتے ہیں یا وہ واقعی آمرانہ دورِحکومت یاصدارتی نظام کوپسند کرتے ہیں؟ان کاخیال ہےکہ خاص طورپر 60کی دہائی میں پاکستان درست سمت میں ترقی کررہاتھا اور ادارے مضبوط ہورہے تھے۔ اس دور کو مدِنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم نے اقتدار میں آنے کے بعد سول سروس میں اصلاحات کیلئے ایک ’ٹاسک فورس‘ تشکیل دی تھی۔ ہفتے کو میں نے اُس ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹرعشرت حسین سے پوچھاکہ وزیراعظم سول سروس میں اصلاحات کیلئے کتنے سنجیدہ ہیں اور ان کی رپورٹ کا کیا ہوا۔ انھوں نے کہا،’’ وہ بہت سنجیدہ ہیں اور اب نفاذ کا وقت آگیاہے۔‘‘ آج کیبنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی ہائی پروفائل تقرری نہیں کی جاسکتی، انھوں نے مزید کہاکہ اس کیلئے سپریم کورٹ کا شکریہ۔ تاہم حکومتی حلقوں میں اس بارے میں دو رائے ہیں کہ سول سروس اور پولیس سروس کو مکمل آزاد کردیاجائے یااسے مراحل میں ٹھیک کیاجائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 50اور60کی دہائی میں سول سروس پہلےانڈین سول سروس اور بعد میں پاکستان ایڈمنسٹریٹوسروس کےاعلیٰ تعلیم یافتہ سول سرونٹس پر مشتمل تھی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 1948اور1958 کے درمیان کے سیاسی بحران میں سول سرونٹس بہت زیادہ شامل تھے جس کا نتیجہ بعد میں 1958کے پہلے مارشل لاءکی صورت میں نکلا۔ ایوب خان نے1956کا آئین معطل کردیا اور لہذا آمرانہ طرزِ حکومت کی بنیاد رکھی جس کےبعدملک میں تین مزید فوجی حکومتیں آئیں۔ سول سرونٹس نے انھیں مکمل سپورٹ فراہم کی اور ان کی حکمرانی کو تحفظ فراہم کرنے کیلئےقوانین بھی بنائے۔ انھوں نے بعد میں بنیادی جمہوریتوں کے ذریعے 1962میں اپنا آئین متعارف کردیا۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…