منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

حزب اللہ کی سرنگیں خطے میں ایرانی جارحیت کا ثبوت ہے : اسرائیلی وزیراعظم

datetime 7  دسمبر‬‮  2018 |

تل ابیب(این این آئی)اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے لبنان کی سرحد پرزیرزمین حزب اللہ کی جانب سے کھودی گئی سرنگوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سرنگیں خطے میں ایرانی جارحیت کا کھلا ثبوت ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیتن یاھو نے لبنان کی سرحد

سے متصل اس علاقے کا دورہ کیا جہاں اسرائیلی فوج حزب اللہ کی مبینہ سرنگوں کو تباہ کرنے کے لیے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے اس دورے کے ہمراہ بعض ممالک کے سفیربھی موجود تھے۔ انہوں نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ پر مزید اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کی سرنگیں خطے میں ایرانی جارحیت کا کھلا ثبوت اور واضح مثال ہیں۔سفیروں سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے دشمن سرنگوں کو اسلحہ کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ حزب اللہ اور حماس کے پاس یہ ایک جنگی حربہ ہے۔ جب بھی ہمیں ان کے خلاف کارروائی کی ضرورت پڑی گریز نہیں کریں گے۔ جوہماری زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کریاس کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ حزب اللہ اور حماس دونوں کو اس کا اندازہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کی سرگرمیوں کی مذمت کے ساتھ ساتھ حزب اللہ اور حماس پر بھی مزید پابندیاں عاید کی جانی چائیں۔ ہمیں امید ہے کہ حزب اللہ کے خلاف مزی اقتصادی اور معاشی پابندیاں عاید کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…