جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اسٹاک مارکیٹ میں1400پوائنٹس کی کمی، سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے

datetime 4  دسمبر‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کی لپیٹ میں آگئی اور انڈیکس میں چودہ سو پوائنٹس کی کمی کے بعد چالیس ہزار پوائنٹس کی سطح برقرار نہ رکھ سکا۔ تفصیلات کے مطابق مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں ڈیڑھ فیصداضافے کے بعد

پاکستان اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کا رحجان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس میں تین فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی۔ حصص بازار میں کاروبار کا آغاز ہی مندی سے ہوا اور ٹر یڈنگ کے دوران انڈیکس میں چودہ سو پوائنٹس کی مندی دیکھی گئی، کمی کے بعد بینچ مارک انڈیکس چالیس ہزار پوائنٹس کی سطح سے بھی نیچے آگیا اور انتالیس ہزار ایک سو چھ پوائنٹس پر ٹریڈ کررہا ہے۔ شرح سود میں اضافے کے باعث مارکیٹ میں سرمائے کا انخلا ریکارڈ کیا جارہا ہے، ماہرین مندی کے باعث سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے ہیں۔ یاد رہے اسٹيٹ بينک نے اگلے دو ماہ کيلئے مانيٹری پاليسی کا اعلان کرتے ہوئے ڈیڑھ فیصد اضافے سے شرح سود میں دس فيصد مقرر کردیا، شرح سود پانچ سال کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی تھی۔  اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں سال جولائی سے اکتوبر تک مجموعی عالمی ادائیگیاں وصولیوں کے مقابلے4.8 ارب ڈالر زائد رہیں۔ مہنگائی کی شرح جولائی تا اکتوبر 2018 کے دوران5.9فیصد رہی۔ خیال رہے گذشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100انڈیکس 373 پوائنٹس کم ہوکر 40496 پر بندہوا، ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق کاروباری ہفتےمیں 2232 پوائنٹس کےبینڈمیں کاروبارہوا، مارکیٹ میں 75 کروڑ99 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کاروبار کئے گئے شیئرز کی مالیت 48 ارب 56 کروڑ روپے رہی جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 28ارب روپے سے کم ہوکر 8067 ارب روپے ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…