جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

’’یہ ڈیم بن کر رہیگا، کسی کی جیب سے نہیں میرے خزانے سے 16ارب جانے ہیں‘‘پاکستان کا ایسا ڈیم جو 51فیصد مکمل مگر اچانک اس کو بنانے سے کیوں انکار کر دیا گیا؟چیف جسٹس برہم، بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 4  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ نئی گج ڈیم بننا چاہیے،16ارب روپے ضائع نہیں کر سکتے، کک بیکس کے لیے منصوبے پر کام شروع کردیا جاتا ہے، سندھ حکومت کی طرف سے تو کوئی آتا ہی نہیں،46ارب روپے وفاقی حکومت نے ڈیم کیلئے جاری کرنے ہیں، ڈیم پر51فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، حکومت سندھ کہتی ہے کہ اب ڈیم کی ضرورت نہیں۔

منگل کو سپریم کورٹ میں دادو میں نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ وفاقی حکومت نے ڈیم کیلئے فنڈز جاری کرنے تھے، ڈیم بننے ہیں، رپورٹ کے چکر سے نکل آئیں، بتائیں حکومت کب فنڈ جاری کرے گی؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت سندھ نے موقف تبدیل کیا ہے، سندھ حکومت ڈیم کی تعمیر پر ہچکچاہٹ کا شکار ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے کا ڈیم کی تعمیر سے کیا تعلق ہے؟46ارب روپے وفاقی حکومت نے ڈیم کیلئے جاری کرنے ہیں، ڈیم پر51فیصد کام مکمل ہوچکا ہے، حکومت سندھ کہتی ہے کہ اب ڈیم کی ضرورت نہیں۔جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ16ارب روپے ڈیم کیلئے پہلے ہی جاری ہوچکے ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عدالت مہلت دے، رپورٹ جمع کرا دیتے ہیں، ڈیم کی تعمیر میں کچھ حصہ سندھ حکومت نے بھی دینا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کک بیکس کیلیے منصوبے پر کام شروع کردیا جاتا ہے، کسی کی جیب سے16ارب پورے نہیں نکلے،16ارب میرے خزانے سے خرچ ہوں گے، کیا اس ڈیم کی تعمیر کو بند کردیں؟ کیوں نہ ڈیم کی تعمیر کی تجویز دینے کے خلاف کارروائی کریں۔جسٹس اعجازالاحسن نے حکم جاری کیا کہ ڈیم سے متعلق عدالت کو تمام تفصیلات فراہم کی جائیں۔ سماعت کے موقع پر جی ایم واپڈا نے بتایا کہ یہ ڈیم چار برس میں مکمل ہونا تھا، صرف 20 فیصد رقم جاری ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کہتی ہے منچھر جھیل کو زیادہ پانی دیں، منچھرجھیل کو زیادہ پانی دینے سے قابل کاشت رقبہ کم ہوجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…