منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بول چینل جوائن کرنے والے سینئر اینکرزو صحافیوں نے ادارہ چھوڑنے کیلئے صلاح مشورے شروع کر دیئے

datetime 19  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (آن لائن)ایگزٹ کمپنی کی جعلی ڈگریوں کا سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد بول ٹی وی چینل کو جوائن کرنے والے سینئر اینکرز اور دیگر صحافیوں نے ادارہ چھوڑنے کیلئے ساتھیوں سے صلاح مشورے شروع کر دیئے ہیں۔ بول ٹی وی چینل کی انتظامیہ کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ملک کا سب سے بڑا گروپ ہو گا لیکن ایگزٹ کمپنی کے مالک شعیب شیخ کی بدقسمتی یہ ہوئی ہے کہ بول ٹی وی منظر پر آنے سے پہلے ہی اس کمپنی کا ایک بہت بڑا سکینڈل بول پڑا ہے اس سکینڈل کے بارے ایف بی آئی کے ایک سابق ایجنٹ نے کہا ہے کہ یہ سانسیں بند کر دینے والا سکینڈل ہے۔ پیر کو جب جعلی اسناد اور جعلی ڈپلوموں کے اجراءبارے سکینڈل سامنے آئے تو پورے ملک میں تہلکہ برپا ہو گیا۔ اس سکینڈل کے بعد بول ٹی وی کو جوائن کرنے والے معتبر صحافی اپنے ضمیر پر بوجھ محسوس کر رہے ہیں جبکہ بول ٹی وی کے مالکان بھی گزشتہ روز خود کو شدید دباﺅ میں محسوس کر رہے ہیں۔ بول ٹی وی کی انتظامیہ چینل کی نشریات شروع ہونے سے پہلے ہی اربوں روپے کے اخراجات کر چکی ہے اور جعلی اسناد کے سکینڈل کے بعد بول ٹی وی کی اخلاقی حیثیت بھی شدید متاثر ہوئی ہے

مزید پڑھیے:سری لنکا : مچھلیوں کی بارش

اور میڈیا سے وابستہ افراد کا خیال ہے کہ اب بول ٹی وی کی نشریات کا آغاز بہت مشکل نظر آتا ہے اور ایگزٹ کمپنی کے مالکان کو بھرپور جدوجہد کرنا ہو گی اور اس کے باوجود کمپنی کی ساکھ کی بحالی ناممکن نظر آتی ہے۔ بول ٹی وی سے پچھلے چھ ماہ سے وابستہ ایک صحافی کا دعویٰ ہے کہ آنیوالے چند دنوں میں کئی بڑے نام بول ٹی وی کو خیرباد کہہ جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…