ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان، خشک سالی کا دور دورہ، رقم کے بدلے شادیاں عروج پرپہنچ گئیں،بیشتر افغان خاندان جہیز کے بدلے بچوں کی شادیاں کرنے پر مجبور ہوگئے،افسوسناک انکشافات

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کابل(آئی این پی)افغانستان میں حالیہ بد ترین خشک سالی کے نتیجے میں ہزاروں افغان شہریوں کو داخلی سطح پر بے گھری کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس صورتحال سے بیشتر افغان خاندان جہیز کے بدلے بچوں کی شادیاں کرنے پر مجبور ہیں۔بچوں کی بہبود کے عالمی ادارے یونیسف نے کہا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ کئی عشروں میں آنے والی بد ترین خشک سالی کے سبب ہزار ہا افغان شہریوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر ملک کے دیگر حصوں میں منتقل ہونا پڑا ہے۔

یونیسف کے مطابق اس صورت حال میں بھوک اور معاشی بد حالی کا شکار ان افراد میں سے بیشتر زندہ رہنے کے لیے اپنے بچوں کی شادیاں کرنے پر مجبور ہیں تاکہ اس کے بدلے ملنے والی رقم اور جہیز سے وہ اپنی گزر بسر کر سکیں۔یونیسف نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ہرات، بادغیس اور غور کے صوبوں میں اس سال خشک سالی کے سبب قریب دو لاکھ تیئیس ہزار افغان باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔عالمی تنظیم برائے خوراک اور زراعت نے بتایا ہے کہ ان افغان شہریوں کو دن میں تین وقت کھانا میسر نہیں جس کے باعث یہ اپنے مویشی بیچ کر شہروں کا رخ کر رہے ہیں جہاں ان کے لیے امداد اور دیگر سہولیات تک رسائی حاصل کرنا آسان ہے۔تاہم بچوں کی بہبود کے عالمی ادارے یونیسف کا کہنا ہے کہ بعض خاندان اس سے کہیں زیادہ سخت اقدامات اٹھا رہے ہیں جن میں رواں برس جولائی اور اکتوبر کے درمیان ہرات اور باغدیس کے صوبوں میں ایک سو اکسٹھ بچوں کی منگنیاں یا شادیاں رجسٹر کی گئی ہیں۔ ان بچوں میں ایک سو پچپن لڑکیاں جبکہ پانچ لڑکے ہیں۔یونیسف کے ترجمان ایلسن پارکر نے تھامسن روئٹرز فانڈیشن سے بات کرتے ہوئے کہا، یہ گزشتہ کئی عشروں میں افغانستان میں آنے والی بد ترین خشک سالی ہے۔ جس میں بچے خاندانوں کے کفیل بن رہے ہیں۔ بچوں کی شادی کے بدلے والدین کو جہیز کے پیسے ملتے ہیں جس سے وہ اپنی گزر بسر کر پاتے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق خشک سالی سے متاثرہ بیشتر خاندانوں کو خوراک، نقل مکانی کے لیے ٹرانسپورٹ اور علاج معالجے کے لیے رقم ادھار لینی پڑتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…