جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ میں کرشنگ سیزن شروع کرنے والی شوگرملوں کا کاشت کاروں کو130 روپے فی من سے زائد نرخ اداکرنے سے انکار

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

پنگریو( این این آئی)سندھ میں کرشنگ سیزن شروع کرنے والی شوگرملوں نے کاشت کاروں کو130 روپے فی من سے زائد نرخ اداکرنے سے انکارکردیا ہے اورایک سوتیس روپے سے زائد نرخ کی ادائیگی کوحکومت سندھ کی سبسڈی کی فراہمی سے مشروط کردیا ہے سندھ میں ماہ نومبر اختتام پزیرہونے کی طرف گامزن ہے مگراس کے باوجودصوبے کی اکثرشوگرملوں نے کرشنگ سیزن تاحال شروع نہیں کیا۔

سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے شوگرمل مالکان کوشوگرملیں تیس نومبرتک چلادینے کے احکامات پر صوبے کے زیادہ ترشوگرمل مالکان نے عمل نہیں کیاجبکہ کرشنگ سیزن شروع کرنے والی شوگرملوں نے کاشت کاروں کودونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیا ہے اور کاشت کاروں کے مطالبے دوسوروپے فی من کے برعکس ایک سوتیس روپے فی من کے حساب سے گنا خریداجارہا یے جس کی وجہ سے کرشنگ سیزن شروع کرنے والی شوگرملوں کوگنا سپلائی کرنے والے کاشت کاروں میں شدیدتشویش کی لہردوڑگئی ہے کرشنگ سیزن شروع کرنے والی شوگرملوں کی انتظامیہ نے کاشت کاروں سے کہا ہے کہ اگرحکومت سندھ نے پاکستان شوگرملز ایسوسی ایشن پاسما کے مطالبے کے مطابق صوبے کی شوگرملوں کوسبسڈی فراہم کی توکاشت کاروں کوایک سوساٹھ روپے فی من کے حساب سے گنے کی رقم اداکی جائے گی بصورت دیگر ایک سوتیس روہے فی من کے حساب سے ہی ادائیگی کی جائے گی شوگرمل مالکان کی ان مانیوں پر کاشت کاروں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ شوگرمل مالکان نہ توانتظامی اورنہ ہی عدالتی احکامات پرعمل کررہے ہیں اورمن مانیاں کرنے کی تاریخ کو دہرارہے ہیں جس کی وجہ سے کاشت کاروں کوزبردست معاشی نقصانات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے کاشت کاروں نے کہا ہے کہ صوبے میں کرشنگ سیزن شروع کرنے والی شوگرملیں گنے کے نرخ ایک سوتیس تاایک سوچالیس روہے فی من

کے حساب سے ادائیگی کررہی ہیں جوکہ کاشت کاروں کے ساتھ مذاق ہے اس ریٹ پرگنا سپلائی کرنے سے گنے کے کاشت کارمقروض ہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ پانی کی شدیدقلت کے باعث گنے کی فصل پہلے ہی بری طرح متاثرہوئی ہے دوسری طرف شوگرملوں کی جانب سے گنے کے نرخ دوسوروپے فی من کے بجائے ایک سوتیس روپے مقرر کرنے کے باعث گنے کی فصل پرآنے

والے اخراجات بھی پورے نہیں ہوسکیں گے اورکاشت کاردوہرے نقصان کاشکارہوجائیں گے کاشت کاروں نے وزیراعلیٰ سندھ اورچیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے اپیل کی کہ سندھ میں شوگرملوں کی من مانیوں اورکاشت کاردشمنی کانوٹس لیاجائے اورگنے کے نرخ دوسوروپے فی من مقرر کرکے کرشنگ سیزن شروع نہ کرنے والی شوگرملیں فوری طورپر چلانے کے اقدامات کیے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…