اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے توانائی کے شعبے میں ایک اہم رعایت دی گئی ہے، جسے انہوں نے مثبت پیش رفت قرار دیا، تاہم اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ یہ معاملہ ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق ہو سکتا ہے، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے اور جسے کھلا رکھنے میں امریکا کو طویل عرصے سے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے دیا گیا یہ “تحفہ” غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی قدر بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ جوہری پروگرام سے متعلق نہیں بلکہ تیل اور گیس کے شعبے سے جڑا ہوا ہے، اور اسے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔انہوں نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک امریکا اس تنازع میں پہلے ہی کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ ان کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اس بات پر کچھ مایوس دکھائی دیتے ہیں کہ یہ مہم توقع سے زیادہ جلد اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
ٹرمپ نے مزید بتایا کہ امریکا ایران کے ساتھ پسِ پردہ رابطوں میں مصروف ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے معاہدے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت بھی کسی سمجھوتے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان مذاکرات میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سمیت اہم شخصیات شامل ہیں، جو ممکنہ حل کے لیے کام کر رہی ہیں۔



















































