ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

چینی قونصلیٹ ،اورکزئی میں حملے،پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کی بہادری کے چرچے سمندر پار بھی جا پہنچے،اقوام متحدہ نے رکن ممالک سے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

نیویارک(یواین پی ) سلامتی کونسل نے پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں اور حکومت پاکستان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کو ناقابل قبول اور عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا اور کہا کہ کسی مذہب اور معاشرے میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے چینی قونصل خانے پر حملے اور اورکزئی ایجنسی میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے پاکستان میں دہشت گردی کو ناقابل قبول اور عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چینی قونصلیٹ اور اورکزئی ایجنسی میں خودکش حملے دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔ذمے داروں، سہولت کاروں اور مالی معاونت کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔سلامتی کونسل ارکان نے پاکستان میں حالیہ دہشت گردی میں جاں بحق افراد کے لواحقین اور حکومت پاکستان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے سفارتخانوں اور قونصل خانوں سے متعلق بنیادی اصولوں کی پاسداری پر زور دیا ہے۔سلامتی کونسل کا کہنا تھا کہ ہرقسم کی دہشت گردی عالمی امن وسلامتی کے لیے خطرہ ہے جب کہ سلامتی کونسل اراکین نے دہشت گردوں کے حملوں کے بعد فوری کارروائی پر پاکستانی اہلکاروں کی تعریف ہے۔سلامتی کونسل کے ارکان نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ کی کسی مذہب اور معاشرے میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سلامتی کونسل نے اپنے پیغام میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان سے مکمل تعاون اور مدد پر بھی زور دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…