جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر موصول ہوگئے : اسٹیٹ بینک

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے پیکیج میں سے ایک ارب ڈالر موصول ہوگئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران ریاست کی جانب سے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کا پیکیج دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایک ارب ڈالر پاکستان آگئے ہیں، جس سے ایس بی پی ذخائر 7 ارب 48 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 8 ارب 48 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہوگئے۔ خیال رہے کہ مالی سال 2018 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ریکارڈ 18 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ جس کے بعد یہ تخمینہ لگایا جارہا ہے کہ مالی سال 2019 میں خسارے کو پورا کرنے کے لیے ملک کو اضافی 12 ارب ڈالرز کی ضرورت ہوگی۔ انہی معاشی مسائل کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ ماہ سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، جہاں مؤخر ادائیگیوں پر 3 ارب ڈالر کا تیل دینے سمیت 3 ارب ڈالر نقد اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں رکھنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تاہم ان ڈالرز کو پاکستان کی جانب سے استعمال نہیں کیا جائے گا بلکہ یہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی صورت میں مدد فراہم کریں گے۔ اسی طرح آئندہ 3 برسوں کے لیے مؤخر ادائیگیوں پر 3 ارب ڈالر کے تیل سے ملک کو اپنے درآمدی بل کم کرنے میں مدد ملے گی، جو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھانے کی اصل وجہ ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بھی رابطے میں ہے کیونکہ مالی سال 2019 کے پہلے 4 ماہ میں خسارے میں ساڑھے 4 فیصد سے 4.84 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…