ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

ان کو کسی اپوزیشن کی کوئی ضرورت نہیں،حکومتی وزرا ء ایک دوسرے کی خود تردید کر رہے ہیں، علی محمد خان کی جانب سے فواد چوہدری کے بیان کی تردید پر ن لیگ کے مشاہد اللہ خان کا دلچسپ تبصرہ ، کیا کچھ کہہ گئے؟

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ حکومت نے100دنوں میں اپنی لیے ایک ہزار مسائل پیدا کر لیے ہیں جن سے نکلنے کا راستہ انہیں اب نظر نہیں آرہا،عمران خان میں حکومت چلانے کیلئے مطلوبہ اہلیت نہیں ہے وہ جو بھی کر لیں اس کا الٹا اثر ہوگا،عمران خان کے دائیں بائیں کرپشن کے بادشاہ بیٹھے ہیں ان سے کرپشن کے خلاف جنگ کا آغاز کریں،

طاہر داوڑ کے قتل پر حکومتی نا اہلی بے نقاب ہو چکی ہے،حکومت داخلی اور خارجی محاذوں پر مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے،حکومتی وزرا ء ایک دوسرے کی بیانات کی خود تردید کر رہے ہیں ان کو کسی اپوزیشن کی کوئی ضرورت نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے جمعہ کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئیکیا۔ مشاہل اللہ خان نے کہ کہ حکومت نا اہل اور نا لائق ترین ہے جس کو عوام کے مسائل کا ادراک ہی نہیں ہے۔جب عوامی مسائل کا ادراک نہیں ہے تو 100روزہ پلان ہو یا ایک ہزار روزہ پلان حکومت اس پر عملدرآمد نہیں کرسکتی۔حکومت نے عوامی مسائل تو حل نہیں کیے لیکن پہلے100دنوں میں اپنی لیے ایک ہزار مسائل پیدا کر لیے ہیں جن سے نکلنے کا راستہ انہیں اب نظر نہیں آرہا۔ عمران خان نے آتے ہی سادگی کا شوشہ چھوڑا لیکن اب تک صرف اس سادگی مہم سے14کروڑ بچا پائے ہیں۔عمران خان میں حکومت چلانے کیلئے مطلوبہ اہلیت نہیں ہے وہ جو بھی کر لیں اس کا الٹا اثر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومتی وزرا ء کرپشن کے خلاف جہاد کرنے کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں لیکن اصلمیں یہ لوگ کرپشن کو فروغ دے رہے ہیں۔عمران خان کے دائیں بائیں کرپشن کے بادشاہ بیٹھے ہیں جن کے خلاف ان کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔ صرف اپوزیشن کو چور کہنا اور ان کے خلاف ذاتی عناد پر کرپشن کے مقدمات بنانے سے کرپشن ختم نہیں ہوگی۔اگر کرپشن کے

خلاف جنگ کرنی ہے تو اس کی شروعات عمران خان اپنے گھر سے کریں۔شہباز شریف کو نیب نے گرفتار کر لیا ہے اور تین مرتبہ ریمانڈ میں توسیع بھی لی جا چکی ہے لیکن ان کے خلاف اب تک ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکا لیکن پرویز خٹک کے خلاف نیب نے ریفرنس دائر کیے ہیں ابھی تک جس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ نیب یا تو سب کو گرفتار کرے یا سب کو رہا کرے۔ ان کی پسند کا

احتساب کا نظام نہیں چلنے دیں گے۔طاہر داوڑ کے قتل پر حکومتی نا اہلی بی نقاب ہو چکی ہے۔ ان کے قتل کے معاملے پر حکومت کا چار روز تک قبول ہی نہ کرنا تشویش پیدا کر رہا ہے۔ حکومت بتائے کہ جن افراد کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں حکومت نے ان کے تحفظ کیلئے کیا اقدامات ابھی تک کیے ہیں۔حکومت داخلی اور خارجی محاذوں پر مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور ان کی کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آرہی ۔حکومتی وزرا ء ایک دوسرے کی بیانات کی خود تردید کر رہے ہیں ان کو کسی اپوزیشن کی کوئی ضرورت نہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…