ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

ایس پی پشاور طاہر داوڑ کا اسلام آباد سے اغواء ،حکومت کی مجرمانہ غفلت کاپرد ہ چاک ،عوام کو حقائق بتانے کی بجائے پردہ ڈ ا لنا شروع کر دیا

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) مقتول ایس پی پشاور طاہر داوڑ کے اسلام آباد سے اغواء نے اربوں روپے مالیت کے600سیف سٹی کیمروں کی حقیقت کا پردہ بھی کھول دیا ہے، وفاقی حکومت نے عوام کو حقائق بتانے کی بجائے مجرمانہ غفلت پر پردہ ڈا لنا شروع کر دیا،

تفصیلات کے مطابق 26اکتوبر کو اسلام آباد کے تھانہ رمنا کے قریب سے اغواء کئے جانے والے مقتول ایس پی طاہر داوڑ کے اغواء سے یہ راز بھی فاش ہو گیا ہے کہ سیف سٹی کے نام پر اسلام آباد کی شاہراہوں اور گلیوں میں لگائے گئے 600 سیف سٹی کیمرے اس وقت حکومتی لاپرواہی کے باعث بند پڑے ہوئے ہیں اور وفاقی دارالحکومت اس وقت مجرمانہ سرگرمیوں کی آماجگاہ بناہوا ہے، سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت 600کیمروں کے اخراجات پہلے چائینہ کمپنی برداشت کرتی رہی ہے لیکن اخراجات کی ادائیگی نہ ہونے سے ان کیمروں کو غیر مؤثر کر دیا گیا ہے، دو ماہ پہلے اقتدار سنبھالنے والی پی ٹی آئی کی حکومت کو اگر چہ اس کا علم تھا اور معتبر ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی کو وزارت سنبھالتے ہی ان کیمروں کی حقیقت سے آگاہ کر دیا گیا تھا لیکن وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی کی طرف سے ان کیمروں کی بحالی کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، موصوف کی طرف سے گزشتہ روز پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ جہاں سے طاہر داوڑ کا اغواء ہوا وہاں پر کیمرے کام نہیں کر رہے تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پورے شہرکے کیمرے مفلوج ہو چکے ہیں، اور وزارت داخلہ انکی بحالی کیلئے تاحال فنڈز کا انتظام نہیں کرپائی ہے، یہ صورتحال اسلام آباد کے شہریوں کیلئے قابل تشویش سمجھی جارہی ہے۔  مقتول ایس پی پشاور طاہر داوڑ کے اسلام آباد سے اغواء نے اربوں روپے مالیت کے600سیف سٹی کیمروں کی حقیقت کا پردہ بھی کھول دیا ہے، وفاقی حکومت نے عوام کو حقائق بتانے کی بجائے مجرمانہ غفلت پر پردہ ڈا لنا شروع کر دیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…