تہران (این این آئی)ایران میں ہونے والے ایشین چمپیئنز لیگ فٹ بال کے فائنل میں سیکڑوں خواتین کو شرکت کی اجازت دے دی گئی۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق تہران میں ہونے والے اس میچ میں خواتین کو شرکت کی اجازت دے دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کو 35 برس سے خواتین کو اہم میچوں سے باہر کرنے کو خاتمے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ایران کی ٹیم کی پرسیپولیس اور جاپان کی کاشیما اینٹلرز کے درمیان اس میچ میں اطلاعات کے مطابق اکثر کھلاڑیوں کی رشہ دار خواتین یا خواتین ٹیموں کے ارکان شریک ہوں گی۔خیال رہے کہ فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا بھی ایران میں خواتین پر عائد اس پابندی کے خاتمے کیلئے حکام سے مذاکرات کررہی ہے۔قبل ازیں گزشتہ ماہ 100 خواتین کو ایران اور بولیویا کے درمیان ایک دوستانہ میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی تھی تاہم فوری بعد پابندی کو بحال کر دیا گیا تھا۔ایرانی حکام کی جانب سے رواں سال مارچ میں 35 خواتین کو مقامی ٹیموں پرسپولیس اور استقلال کے درمیان منعقدہ میچ دیکھنے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا تھا۔مذکورہ میچ میں فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو بھی شریک تھے جہاں ایرانی وزیر کھیل مسعود بھی موجود تھے۔ایرانی خواتین اور لڑکیوں پر 1981 میں مردوں کے کھیلوں میں شرکت پر پابندی عائد کی گئی تھی تاہم دیگر ممالک کی خواتین کو اس طرح کے میچوں میں شرکت کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ایران میں کھیلوں کے میدانوں تک خواتین کی رسائی کیلئے مہم چلانے والے ایک گروپ کی جانب سے 2 لاکھ سے زائد افراد کی دستخط شدہ پٹیشن فیفا کو جمع کرادی گئی تھی۔ گروپ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس پابندی کا خاتمہ ہمارا دہائیوں سے خواب رہا ہے کیونکہ ہمیں بھی عوامی خوشیوں اور جوش و جذبے سے محروم کیا گیا تھا۔



















































