ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب کی نئی ویزا پالیسی کااعلان،اہم اسلامی ملک کے شہریوں پرحج اورعمرہ کرنے پرپابندی عائد

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

ریاض*سعودی عرب نے نئی ویزا پالیسی کے تحت فلسطینیوں پر حج اورعمرہ کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی۔اسرائیلی اخبارکے مطابق سعودی عرب نے اپنی حج و عمرہ ویزا پالیسی تبدیلی کردی جس کے بعد کسی بھی فلسطینی مسلمان کو اردن اور لبنان کے ویزے پر داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔واضح رہے کہ 1978 میں اردن کے بادشاہ حسین نے خصوصی طور اسرائیلی زیر قبضہ علاقوں میں رہائش پذیر فلسطینی مسلمانوں کو حج اور

عمرے کی ادائیگی کے لیے عارضی ویزا جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس فیصلے سے تمام فلسطینی مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے پہلے اردن پہنچتے اور عارضی ویزا لے کر سعودی عرب داخل ہوتے تھے۔سعودی عرب کی نئی ویزا پالیسی سے تقریباً 30 لاکھ فلسطینی متاثر ہوں گے جو بذریعہ اردن اور لبنان حج اور عمرے کی ادائیگی کے لیے مکہ اور مدینہ آتے تھے۔سعودی عرب کی جانب سے مذکورہ فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی نئی سوچ کی تعریف کی۔خیال رہے کہ 30 اپریل کو سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ریاست کی پوزیشن میں واضح تبدیلی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلیوں کو اپنے وطن کا حق حاصل ہے۔سعودی ولی عہد نے اقرار کیا تھا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان رسمی طور پر کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان پس پردہ تعلقات میں بہتری دیکھی گئی۔گزشتہ برس 20 نومبر کو اسرائیلی کابینہ کے وزیر توانائی یوول اسٹینٹز نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل کے کئی عرب اور مسلم ریاستوں کے ساتھ خفیہ تعلقات ہیں۔ماضی میں لبنانی تنظیم حزب اللہ نے بھی

سعودی عرب پر الزامات لگائے تھے کہ ریاض نے اسرائیل کو ان کی جماعت کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے اکسایا تھا۔یاد رہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں تاہم دونوں ممالک ایران کو مشترکہ دشمن سمجھتے ہیں اور دونوں ہی تہران کے اثرو رسوخ مشرقی وسطیٰ میں محدود کرنا چاہتے ہیں۔16 نومبر 2017 کو اسرائیل کے ملٹری

چیف آف اسٹاف کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ایران کے مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرنے کے منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب سے تعاون کے لیے تیار ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ کیااسرائیل نے حال میں سعودی عرب سے معلومات شیئر کی، غادی آئیسنکوٹ کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر ہم سعودیہ سے معلومات کے تبادلے کے لیے تیار ہیں، جبکہ ہمارے اور ان کے کئی مشترکہ مفادات ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…