بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

فیس بک ڈیڑھ کروڑ کے قریب دہشت گردانہ مواد ڈیلیٹ کرنے میں کامیاب

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

نیویارک(این این آئی)فیس بک کو اکثر جعلی، نفرت انگیز اور دہشت گردی سے متعلق مواد پوسٹ ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاہم اب کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال کے دوران اب تک ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد دہشتگردی مواد پر مبنی پوسٹس ڈیلیٹ کرچکی ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق فیس بک کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہاگیاکہ یہ ڈیڑھ کروڑ کے قریب مواد 2018 سے قبل پوسٹ کیا گیا۔

بلکہ بیشتر پوسٹس برسوں سے سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ پر موجود تھیں۔مگر کمپنی اتنے عرصے میں اسے پکڑنے میں ناکام رہی تھی۔ یعنی دہشتگردی سے جڑا مواد 970 دن (یہ زیادہ سے زیادہ دنوں کی تعداد ہے جو کسی مواد میں پائی گئی) اس سوشل میڈیا سائٹ پر موجود رہا۔تاہم سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئے مواد کو ہٹانے کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور فیس بک اب جلد ایسی پوسٹس پکڑنے لگی ہے۔رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران 12 لاکھ پوسٹس کو ہٹایا گیا، دوسری سہ ماہی میں 22 لاکھ جبکہ تیسری سہ ماہی میں 23 لاکھ پوسٹس کو ڈیلیٹ کیا گیا۔صارفین کے رپورٹ کردہ مواد کو ہٹانے کی شرح بھی بڑھی ہے جو تیسری سہ ماہی میں 16 ہزار رہی۔فیس بک نے واضح نہیں کیا کہ ایسی پوسٹس کس خطے کے صارفین زیادہ پوسٹ کرتے رہے ہیں۔فیس بک کے سوا 2 ارب سے زائد صارفین کے نیٹ ورک کو دیکھتے ہوئے ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد پوسٹس بہت کم لگتی ہیں مگر کمپنی کا کہنا ہے کہ اب ایسی پوسٹس خودکار طور پر پکڑنے والے ٹولز کو توسیع دی جارہی ہے۔کمپنی کے مطابق الگورتھم کے ذریعے کمپنی کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والی 19 زبانوں میں پوسٹس پکڑنے میں کامیابی حاصل کی گئی۔کمپنی کے مطابق ایک بگ کی وجہ سے دوسری سہ ماہی میں مواد کو ہٹانے کا عمل سست روی کا شکار رہا جو کہ 14 گھنٹے میں مکمل ہوا جبکہ پہلی سہ ماہی میں یہ عمل ایک منٹ سے بھی کم وقت جبکہ تیسری سہ ماہی میں 2 منٹ کے اندر مکمل کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…