جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

چین کی متعدد فرنیچر کمپنیوں اور سرمایہ کاروں نے انٹیریئرز پاکستان2018 میں دلچسپی ظاہر کی ہے : میاں کاشف اشفاق

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی) چین کی متعدد فرنیچر کمپنیوں اور سرمایہ کاروں نے14 دسمبر سے ایکسپو سینٹر لاہور میں شروع ہونے والی دسویں 3 روزہ میگا نمائش انٹیریئرز پاکستان 2018 میں دلچسپی ظاہر کی ہے ۔یہ بات شنگھائی میں پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے اپنے ایک بیان میں بتائی۔انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان فرنیچر کی باہمی تجارت کو

مزید فروغ دینے کی وسیع گنجائش موجود ہے اور دونوں ممالک کے نجی شعبے اس سیکٹر میں مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں پر کام کر سکتے ہیں جو ابھی تک پس منظر میں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ پی ایف سی کے وفد کا دورہ چین بہت کامیاب رہا ہے اور اس کے دوررس اثرات مرتب ہونگے کیونکہ دونوں اطراف نے نہ صرف ایک دوسرے کے ملک بلکہ دیگر ممالک میں بھی مشترکہ میگا فرنیچر نمائشیں منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی فرنیچر سازوں اور سرمایہ کاروں نے خطاطی والے پاکستانی فرنیچر میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ پاکستانی فرنیچر پراڈکٹس کی عالمی مارکیٹوں میں بہت مانگ ہے، انہوں نے تجارتی مواقع کا جائزہ لینے کیلئے پاکستانی فرنیچر سازوں کو چین کے دورہ کی دعوت بھی دی۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ سی پیک کے تحت متعدد چینی سرمایہ کار پاکستان میں صنعتی یونٹس قائم کر رہے ہیں، اس سے مقامی افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور بے روزگاری و غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کی مجموعی آبادی ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہونے کے باوجود باہمی تجارت کا حجم انتہائی کم ہے جسے فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے اور چین پاکستانی فرنیچر کی بڑی مارکیٹ ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سالانہ فرنیچر ایکسپورٹ 8 سے 12ملین ڈالر ہے لیکن یہ اعداد و شمار انڈسٹری کی حقیقی صلاحیت اور اعلی معیاری فرنیچر سے مماثلت نہیں رکھتے اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے برآمد کار بین الاقوامی ٹریڈ شوز اور فرنیچر نمائشوں میں فعال طور پر حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چینی کمپنیوں کو آسان رسائی فراہم کر رہا ہے اس کے جواب میں چین کو بھی پاکستانی کمپنیوں کو بھی مساوی سہولیات فراہم کرنا چاہیے جبکہ چین کو پاکستان میں صنعتی یونٹ قائم اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر توجہ دینی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…