ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

عراقی پارلیمنٹ کا اجلاس : اہم وزراء کے ناموں کی منظوری نہ ہونے پر ملتوی

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

بغداد(این این آئی)عراق کی پارلیمان کا اجلاس وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی کابینہ میں شامل کیے جانے والے اہم وزراء کے ناموں کی منظوری کے بغیر ہی ملتوی ہوگیا ہے۔ان میں داخلہ اور خزانے کے وزراء بھی شامل ہیں۔عراقی پارلیمان نے 25 اکتوبر کو کابینہ میں شامل 22 میں سے 14 وزراء کے ناموں کی منظوری دی تھی۔البتہ پارلیمان نے مختلف جماعتوں کے ارکان کے درمیان

شدید اختلافات کی وجہ سے خزانے ، خارجہ امور اور تیل کی وزارتوں کے لیے نامزد ناموں کی منظوری نہیں دی تھی۔پارلیمان کا 6 نومبر کو اس مقصد کے لیے دوبارہ اجلاس بلانے کا اعلان کیا گیا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جب بغداد کے انتہائی سکیورٹی و الے علاقے گرین زون میں پارلیمان کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اس کے تقسیم کردہ ایجنڈے میں وزراء پر اعتماد کا ووٹ شامل نہیں تھا۔اس کے بجائے ارکان نے مالی سال 2019ء کے بجٹ پر غور کیا ہے، پارلیمانی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں اور دریائے فرات میں ہزاروں مچھلیوں کی پْراسرار ہلاکتوں پر بحث کی ہے۔اعتماد کے ووٹ کے لیے کسی نئی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ عراقی پارلیمان میں بڑے فیصلے اتفاق رائے او ر اکثریتی ووٹ سے کیے جاتے ہیں اور مختلف پارلیمانی جماعتوں کے درمیان اختیارات یا عہدوں کی تقسیم پر پائے جانے والے اختلافات کی وجہ سے ان فیصلوں میں اکثر تاخیر ہوجاتی ہے۔دفاع اور داخلہ کی وزارتوں کے لیے وزراء کے ناموں پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے یہ دونوں قلم دان فی الوقت وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے پاس ہی ہیں۔پارلیمان کے بعض ارکان اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ نامزد وزراء کا سابق صدر صدام حسین کی جماعت بعث سے کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے اور ان کی جانچ پرکھ عراق کو بعث پارٹی کی باقیات سے پاک کرنے کے لیے قائم کونسل کو کرنی چاہیے اور اس کے بعد نامزد وزراء کی پارلیمان منظوری دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…