جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

جلسوں میں احادیث اور آیات سنانے والے تحریک انصاف کے اہم رہنما کے کرتوت منظر عام پر، کیا حرکتیں کرتے رہے؟ افسوسناک انکشافات

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف صحافی و کالم نگار ہارون الرشید  اپنے کالم مائل بہ خودکشی میں لکھتے ہیں کہ ایک مذہبی لیڈر اور اس کے ساتھیوں نے جو کیا سو کیا۔ دوسرے مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی‘ بظاہر اس کی حریف مذہبی جماعتیں‘ اس کی ہمنوا کیسے ہو گئیں۔ سینیٹر سراج الحق، مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق اس کی حمایت میں کیوں آ کھڑے ہوئے؟ اسلامی جمعیت طلبہ کیوں سڑکیں بند کرنے لگی۔

ان میں سے بعض نے سرکارؐ کا وہ فرمان ضرور سنا ہوگا‘ راستے بند کرنے کی جو ممانعت کرتا ہے۔ رازداری میں پوچھئے تو ممکن ہے کہ وہ اسے گم کردہ راہ قرار دیں۔ پھر کیوں؟ پھر کیوں؟ کیایہ عشقِ رسولؐ کی کرامت تھی کہ اپنی زندگیاں انہوں نے خطرے میں ڈال دیں؟ کیا یہ غلبے کی قدیم انسانی جبلت ہے؟ کیا یہ بلیک میلنگ کا راستہ نہیں۔ کیا وہ یہ جتلانے کے آرزومند تھے کہ انہیں اگر نظر انداز کیا جائے گا۔ ان سوالوں کے جواب مختلف ہو سکتے ہیں۔ یہ ادراک اور علم کی سطح سے متعلق ہے۔ اندازِ فکر کی بات ہے۔ یہ تو مگر آشکار ہے کہ ان میں سے بہت سے‘ اللہ اور اس کے رسولؐ کا نام کاروبارِ دنیا کے لئے برتنے کے خوگر ہیں۔بہاولپور کے جلسہ عام میں‘ جماعت اسلامی سے تحریک انصاف کا رخ کرنے والا لیڈر‘ احادیث سنا رہا تھا‘ آیات سنا رہا تھا۔ عمران خان نے برا سا منہ بنایا اور کہا ”مذہب کا استعمال‘‘۔ بعد ازاں اس آدمی کے بارے میں کہا گیا کہ اس نے ٹکٹیں بیچیں اور لاکھوں کمائے۔ وہ اپنی پارٹی کے لبرل اور سیکولر لیڈروں سے مختلف ثابت نہ ہوا۔ اگر نماز‘ روزہ‘ تلاوت اور سیرتؐ کا مطالعہ بھی ایک آدمی کو رزقِ حرام سے نہیں ر وکتا تو اس کے بارے میں کیا رائے قائم کی جائے؟ کیا رحمۃ اللعالمین کے اس ارشاد کا انطباق‘ اس پہ نہ ہوگا: بدترین لوگ وہ ہیں‘ دنیا کے لیے جو دین کو بیچ دیتے ہیں۔حالیہ دھرنے پر معروف صحافی نے لکھا کہ زعم تقویٰ اور خبطِ عظمت کی کوئی حد ہے کہ اپنے سوا‘ سب کو آدمی گنہگار بلکہ جرائم پیشہ گردانے۔ اپنے اور اپنے حامیوں کے سوا۔ بغاوت کا اعلان کرے۔ ججوں اور جنرلوں کو غیر ملکیوں کا مہرہ قرار دے۔ تحقیق کے بغیر محض شک و شبہ کی بنا پر۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…