بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سوشل میڈیا پر فٹنس روٹین فوٹوز شیئر کرنے والے کیا ‘ذہنی مریض’ ہوتے ہیں؟

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا جہاں آج کے تیز ترین مادی دور میں رابطوں، اطلاعات اور خبروں کی رسائی کا ایک آسان ذریعہ ہے وہیں اس کے صارف اس پر اپنی روز مرہ کی روٹین بھی شیئر کررہے ہوتے ہیں۔ اس روز مرہ امور میں صبح کی چائے سے لے کر کھانے پکانے اور تفریح مقامات سے لے کر ورزشوں کی روٹین تک کی فوٹوز پوسٹ کی جاتی ہیں۔ آپ کے دوستوں میں سے کوئی

ایسا بھی ہوتا ہے جو اکثر باڈی بلڈنگ کلب یا جسمانی ورزش کے دوران لی جانے والی فوٹوز پر سوشل میڈیا سائٹس پر شیئر کرتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ کام آپ بھی کرتے ہوں۔ آپ اچانک صبح اٹھیں اور کسی کی سوشل میڈیا وال پر یہ پوست دیکھیں کہ صحت مند رہنے کے لیے ‘جی ہاں! کام سے قبل 15 میل ضرور دوڑیں’، تو یہ آپ کو ورزش کی تحریک دلانے کے لیے موثر ثابت ہوسکتا ہے یا پھر آپ کے لیے پریشان کن ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے لندن کی برونیل یونیورسٹی کے ریسرچرز نے ایک تحقیق کی کہ آخر کیوں اکثر لوگ سوشل میڈیا پر اپنے ورک آؤٹ کی فوٹوز شیئر کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج نے مذکورہ سوشل میڈیا صارفین کو تقریبا بے نقاب کردیا ہے۔ عزت اور توجہ حاصل کرنے کے عادی جو لوگ ہمیشہ اپنے ورک آؤٹ کی فوٹوز لیتے ہیں (یہ فوٹوز فیشن اور کسی اچھے اقدام سے متعلق بھی ہوسکتی ہیں) خوبرو دکھنے (نرگسیت) کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ریسرچرز کے مطابق یہ سب کرنے کا ابتدائی مقصد یہ واضح کرنا ہوتا ہے کہ آپ خود کے لیے کتنا وقت نکالتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایسی پوسٹ پر دیگر اقسام کی پوسٹ کے مقابلے میں زیادہ لائکس آتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ‘ایسے افراد کی جانب سے مستقل مزید خوبرو دکھنے کی کوشش کا مقصد صرف فیس بک کمیونیٹی کی توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے’۔ خیال رہے کہ ایسی فوٹوز پر زیادہ لائیکس آنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہر کوئی آپ کی فوٹوز کو دیکھنا پسند کرتا ہے۔ ڈاکٹر تارا مارشل کا کہنا تھا کہ ‘ہماری تحقیق کے نتائج یہ تجویز دیتے ہیں کہ خوبرو دکھنے کی کوششوں سے متعلق فوٹوز پر آنے والے لائیکس اور تبصرے ضروری نہیں کہ آپ کے دوستوں کی جانب سے آپ کے اس عمل کے حمایت کے لیے ہوں’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘دوست احباب آپ کو اس قسم کی فوٹوز شیئر کرنے پر خفیہ طور پر ناپسند بھی کرسکتے ہیں’۔ ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کو ورک آؤٹ کے مطلوبہ نتائج کے حصول تک فیس بک پر ایسی فوٹوز اپ لوڈ کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور ہوسکتا ہے کہ ایسا کرنے سے آپ کے دوستوں کی آپ کے ورک آؤٹ سے متعلق تشویش میں اضافہ ہوجائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…