بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

نومولود بچوں میں یرقان کا علاج کیسے کیا جائے؟

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نومولود بچوں میں سب سے عمومی بیماری یرقان (پیلیا) ہے اور زیادہ تر معاملات میں یہ بغیر کسی خصوصی علاج کے 2 ہفتوں کے اندر خود ہی ٹھیک ہوجاتا ہے۔ مکمل دورانیے کے زیادہ تر بچوں میں یرقان ایک ہفتے سے زیادہ باقی نہیں رہتا۔ یرقان تب ہوتا ہے جب بلی روبن نامی کیمیکل کی اضافی تعداد بچوں کے خون میں شامل ہوجاتی ہے اور اس کی وجہ خون

کے سرخ خلیوں کی تباہی ہوتی ہے۔ یرقان کی طبیعیاتی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں (مثلاً بچوں کے جگر کا مکمل نشونما تک نہ پہنچنا)، 9 ماہ کی مدت سے پہلے بچے کی پیدائش، بلڈ گروپ کے مسائل (آر ایچ یا اے بی او بلڈ گروپ)، یا پھر ہیپاٹائٹس بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے مگر اس کے امکانات نہایت کم ہوتے ہیں۔ چھاتی کے دودھ پر پلنے والے بچوں کی ایک چھوٹی سی تعداد کو چھاتی کے دودھ کا یرقان بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی وجوہات اب تک مکمل طور پر واضح تو نہیں مگر سمجھا جاتا ہے کہ ماں کے دودھ کی ساخت اس کی وجہ ہوسکتی ہے۔ چھاتی کے دودھ پر پلنے والے بچوں کے لیے فارمولا دودھ پر پل رہے بچوں کے مقابلے میں زیادہ بلی روبن ہونا عام ہے مگر اس کے باوجود ماؤں کو اپنے بچوں کو چھاتی کا دودھ پلاتے رہنا چاہیے۔ یرقان کی علامات یرقان عموماً زندگی کے دوسرے یا تیسرے دن سے شروع ہوتا ہے۔ پہلے بچے کا چہرہ پیلا نظر آتا ہے اور اس کے بعد یہ پیلاہٹ سینے اور ٹانگوں تک پھیل جاتی ہے۔ آنکھوں کی سفیدی بھی پیلی پڑسکتی ہے۔ یرقان کا پتہ چلانے کے لیے بچے کے ناک یا پیشانی پر اپنی انگلی سے دباؤ ڈالیں۔ اگر جلد سفید ہوجائے (چاہے بچے کی رنگت جو بھی ہو) تو یرقان نہیں ہے۔ اگر جلد میں پیلاہٹ دکھائی دے تو فوراً اپنے بچے کے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ چونکہ کئی بچوں کو یرقان ہونے سے پہلے ہی ہسپتال سے ڈسچارج کردیا جاتا ہے اس لیے اس کا پتہ لگانا والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یاد رکھیے کہ یرقان بچوں کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے جس سے عموماً بہرا پن، سیریبرل پالسی (cerebral palsy) یا دماغ کو نقصان ہوسکتا ہے جبکہ یہ ہیپاٹائٹس کی موجودگی کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔ اگر ڈاکٹر کو شک ہو کہ آپ کے بچے کو یرقان ہے تو وہ خون کے ٹیسٹ یا بلی روبینومیٹر کا استعمال کرتے ہوئے خون میں بلی روبن کی مقدار

جانچ سکتے ہیں۔ خون کا ٹیسٹ عموماً صرف تب استعمال کیا جاتا ہے جب یرقان پیدائش کے 24 گھنٹے کے اندر ہوجائے۔ ٹیسٹ سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آیا یرقان ہے یا نہیں اور یہ کہ علاج کی ضرورت ہے یا نہیں۔ نومولود بچوں میں یرقان کا علاج کیسے کیا جائے؟ اگر ڈاکٹر بلڈ ٹیسٹ کے بعد بچے کے لیے علاج تجویز کرے تو بچے کو خصوصی روشنی میں رکھا جاتا ہے۔ اس علاج کو فوٹو تھیراپی کہتے ہیں۔ اگر یرقان طویل ہوجائے یا ہاضمے سے متعلق کوئی اور بیماری بھی شامل ہو تو مزید اقدامات بھی ضروری ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…